The news is by your side.

Advertisement

محبت کی بجائے درہم و دینار لے آیا!

عزم الحسنین عزمی کا تعلق پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں ڈوڈے سے ہے۔ وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ انھیں ابتدائی عمر ہی میں مختلف موضوعات پر کتابیں اور اخبار و رسائل پڑھنے کا موقع ملا جس نے انھیں شعر گوئی پر مائل کیا۔ عزمی نے غزل کو جذبات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ملک اور بیرونِ ملک ادبی پرچوں‌ میں ان کا کلام شایع ہوتا رہتا ہے۔

یہاں‌ ہم عزم الحسنین عزمی کی ایک غزل اپنے باذوق کی نذر کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

غزل
مری قیمت لگانے کو انہیں بے کار لے آیا
محبت کی بجائے درہم و دینار لے آیا

نکالی پیار میں نفرت کی اس نے ایسے گنجائش
جہاں پر اینٹ بھی ممکن نہیں دیوار لے آیا

ملی لوگوں سے مہنگی اور وہ بھی کھوکھلی، سو میں
،،خوشی،، خود گھر بنانے کے سبھی اوزار لے آیا

اکیلا کب رہا؟ تھی ایک وڈیو کال کی دوری
میں جب چاہا جسے چاہا سمندر پار لے آیا

نہتے گھر پہ ہونے جارہی تھی خامشی قابض
خدا کا شکر میں آواز کی تلوار لے آیا

سخن کے چاک سے دیکھو لیا کیا کام عزمی نے
کہ اپنے بین گھڑ کے صورتِ اشعار لے آیا

Comments

یہ بھی پڑھیں