The news is by your side.

Advertisement

فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے…

فراق گورکھپوری ایک عہد ساز شاعر اور نقّاد تھے۔ انھیں اپنے دور میں‌ جو شہرت اور مقبولیت ملی وہ کم ہی شعرا کو نصیب ہوئی۔ فراق نے ایک نسل کو متاثّر کیا، اور نئی شاعری کی آب یاری میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ حسن و عشق کے شاعر تھے، لیکن نہ صرف جذبات و احساسات کی ترجمانی کی بلکہ شعور و ادراک اور جمالیاتی احساس کے حوالے سے بھی اپنے ہم عصروں‌ میں ممتاز ہوئے۔ ان کی ایک غزل باذوق قارئین کی نذر ہے۔

غزل
بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی
مری باتیں بہ عنوانِ دگر وہ مان لیتے ہیں

تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبارِ الفت میں
ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

زمانہ وارداتِ قلب سننے کو ترستا ہے
اسی سے تو سَر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
کبھی ہم جان لیتے ہیں، کبھی پہچان لیتے ہیں

Comments

یہ بھی پڑھیں