The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم کی تقریر پر تنقید کرنے والے خود کبھی بھارت کیخلاف نہیں بولے، غلام سرورخان

کراچی : وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر پر تنقید کرنے والوں نے اپنے دور میں بھارت کے خلاف کھبی بات ہی نہیں کی اور نہ کھبی کلھبوشن کا نام لیا۔

یہ بات انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہی، غلام سرور خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے جس طرح آل شریف کو چور ثابت کیا اسی طرح دنیا بھر میں مودی کو بھی دور حاضر کا ہٹلر ثابت کرنے پہ لگے ہیں۔

اقوام متحدہ میں تاریخی خطاب کے بعد پوری دنیا میں وزیر اعظم امہ کے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں، کشمیر آج فلیش پوائنٹ بن چکا ہے، کشمیری اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم کشمیریوں کو پختہ یقین دلاتے ہیں، ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ،ساتھ تھے اور ساتھ رہیں گے۔

دنیا آج پاکستان کے بیانیہ کو تسلیم کر رہی ہے، پوری دنیا کی نظریں پاکستانی بیانیہ پر ہیں، پوری دنیا وزیر اعظم عمران خان کے موقف کو سراہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھارت کے مکروہ چہرے سے آشنا ہوئی ہے کیونکہ ہمیشہ اس فورم پر صرف روایتی تقریریں ہی ہوئیں، وزیر اعظم عمران خان نے پہلی بار کہا کہ منی لانڈرنگ کے عفریت سے نپٹنے کی ضرورت ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے خزانے لوٹ کے منی لانڈرنگ کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک میں منتقل کیے جاتے ہیں، عالمی برادری کو اس کا سدباب کرنا چاہیے، اسلامو فوبیا کے متعلق وزیر اعظم نے امہ کا موقف دنیا کے سامنے رکھا اس کی مثال نہیں ملتی۔

غلام سرور خان نے کہا کہ کلھبوشن کے معاملے پر میں نے خود سابقہ اسمبلی میں تحریک التواءجمع کروا رکھی تھی مگر اسے ایجنڈے پہ ہی نہیں آنے دیا گیا، سابقہ حکومتیں غدار وطن ہیں انہوں نے بھارت کو سر پر چڑھایا۔ سابقہ حکومت بھارت گئے تو حریت قیادت کے بجائے بھارتی تاجروں سے ملاقاتوں کو ترجیح دی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آزادی کی تحریکیں طویل وصبر آزما جہدوجد کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچتی ہیں، جنگ ہوئی تو صرف پاکستان اور بھارت متاثر نہیں ہوں گے بلکہ اس کے اثرات دور تک جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے پارلیمان میں لائی جانے والی570تحاریک التواء کو بلڈوز کیا، اپوزیشن صرف اپنی چوریوں کو بچانے کے لیئے احتجاج احتجاج کھیل رہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ یہ لوگ پہلی بار حکومت سے باہر ہیں شاید اس لیے انہیں احتجاج یاد آ رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں