The news is by your side.

Advertisement

‘حکومت طیارہ حادثے کی شفاف انکوائری کرائے گی اور ذمہ دار سے اس کا حساب لیا جائے گا’

اسلام آباد : وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور کا کہنا ہے کہ حکومت طیارہ حادثے کی شفاف انکوائری کرائے گی،ذمہ دار سے اس کا حساب لیاجائےگا اور طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ 22جون کو ایوان میں پیش ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا طیارےنےسوا ایک بجے لاہور سے کراچی کیلئے ٹیک آف کیا اور 2 بج کر 39منٹ پر طیارہ حادثے کا شکار ہوا، پی آئی اے طیارےمیں 99 لوگ تھے ، اس ناگہانی حادثے میں 97شہادتیں ہوئی۔

غلام سرور کا کہنا تھا کہ 97 میں سے 95میتوں کی شناخت ہوچکی ہے ، جاں بحق افراد کی شناخت انتہائی تکلیف دہ عمل تھا، حادثے میں 2لوگ بچ گئے اور تیزی صحتیاب ہورہے ہیں۔

وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ حادثے کے متاثرہ82 اہلخانہ کو 10لاکھ روپے دیئے گئے، کچھ فیملی نے حکومت کی جانب سے یہ رقم لینے سے انکار بھی کیا جبکہ 5اہل خانہ کو پی آئی اے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ‌‌ہے ، ان کے اخراجات برداشت کئے جارہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سول آبادی پر طیارہ گرا تو 16مکانات بری طرح متاثر ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان گھروں میں رہنے والوں کی جانیں محفوظ رکھیں، جائے حادثے پر کام کرنیوالی تین بچیاں جھلس گئیں ،ایک انتقال کرگئی جبکہ دیگر دو بچیوں کا علاج پی آئی اے کرارہا ہے۔

غلام سرور نے کہا طیارے حادثہ ریسکیو آپریشن پر مقامی لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، جس پر قومی اسمبلی اراکین نےطیارہ حادثے کے بعد امدادی کاموں میں حصہ لینے والے شہریوں کو ڈیسک بجا کرخراج تحسین پیش کیا۔

طیارہ حادثات سے متعلق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں 6طیارے حادثات کا شکار ہوئے،رپورٹس نہ آئی، اصل ذمہ داری طیارہ حادثے کی انویسٹی گیشن کی ہے ، انکوائری شفاف ہونی چاہیے ، ذمہ دار سے اس کا حساب لیا جائے گا، حکومت طیارہ حادثے کی شفاف انکوائری کرائے گی ، 22 مئی کو واقعہ پیش آیا، ابتدائی رپورٹ 22جون کو ایوان میں پیش ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ماضی قریب میں ہونیوالے طیارہ حادثات کی رپورٹس بھی پیش کی جائیں گی ، تنقید تعمیری ہونی چاہیے ، تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہیے۔

غلام سرور کا جعلی ڈگریوں سے متعلق کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا پی آئی اے پائلٹس ، عملےکی ڈگریاں چیک کرائیں، عدالتی حکم پر 546افراد کو جعلی ڈگریوں پرپی آئی اے میں  نوکریاں دی گئیں، سیاسی ناپاک خواہشات پوری کرنے کیلئے اداروں میں بھرتیاں کی گئیں، سپریم کورٹ حکم پر ڈگریاں چیک ہوئیں اور فارغ بھی کیا گیا اور ماضی میں پائلٹس جعلی لائسنس رکھنے میں بھی ملوث پائے گئے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی نے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے مزید بتایا کہ فرانس کی ٹیم بھی آئی ،انکوائری میں شامل تھی ، وائس اورڈیٹا باکس دونوں ڈی کوڈ ہوکر آئے ہیں۔

قومی ایئرلائن کی صورتحال سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا 482ارب کا خسارہ ورثے میں ملا ، 350 بلین ڈالرزپورےایوی ایشن انڈسٹری کوہواہے، ہم  نے کسی کو نوکری سے نہیں نکالا۔

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے غلام سرور نے کہا 56 ہزار846پاکستانیوں کوبیرون ممالک سےلایاگیا ، ایک ہزار712 قیدیوں کو مختلف ممالک سے لیکر آئے، امریکامیں پی آئی اے کی انٹری بند تھی، خصوصی اجازت لیکر 1200پھنسے پاکستانیوں کو امریکاسےلیکر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں کیلئے میرے دل میں بہت قدر ہے، ہم اوور سیز پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اوورسیزہر مشکل میں پاکستان کاساتھ دیتے ہیں، فروری سےابتک 479اوور سیز پاکستانیوں کی میتیں لائی گئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں