ہاتھیوں کی نسل کو خطرات، ہاتھی دانت کی تجارت پر پابندی کا مطالبہ -
The news is by your side.

Advertisement

ہاتھیوں کی نسل کو خطرات، ہاتھی دانت کی تجارت پر پابندی کا مطالبہ

کینیا میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے جانے والے فورم ’جائنٹ کلب‘ کے پہلے اجلاس میں شرکا کی جانب سے زور دیا گیا کہ ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ یہ ہاتھیوں کی بقا کے لیے خطرہ اور ملک کی سیاحت کے خاتمے کا باعث بن رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا کے شہر نینوکی میں ’جائنٹ کلب‘ کا پہلا سربراہی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں افریقی رہنماؤں، تاجروں اور سائنسدانوں نے شرکت کی۔

kenya

اس سال کے اوائل میں افریقی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے قائم کیا جانے والا ’جائنٹ کلب‘ ایسا فورم ہے جو ہاتھیوں اور افریقی گینڈوں کی بقا کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے سرگرداں ہے۔

ان جانوروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ دنیا بھر میں ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کے رجحان میں اضافہ ہے جس کا مرکزی راستہ کینیا کی ممباسہ بندرگاہ ہے۔

ivory

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کینیا کے صدر یورہو کینیاتا نے بتایا کہ ہاتھی دانت کی قانونی تجارت بھی ہاتھیوں کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔ ہاتھی اور افریقی گینڈے کے جسمانی اعضا کی تجارت نہ صرف ان کی نسل کو ختم کر سکتی ہے بلکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم غیر قانونی کاموں میں بھی استعمال کی جارہی ہے۔

rhino

انہوں نے بتایا کہ اس غیر قانونی تجارت کو کئی عالمی جرائم پیشہ سینڈیکیٹس کی سرپرستی حاصل ہے۔

شرکا کے مطابق نہ صرف ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کا خاتمہ ضروری ہے بلکہ ان غیر قانونی بازاروں کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے جہاں اس کی خرید و فروخت انجام پاتی ہے۔

ivory-4

اجلاس میں افریقی ممالک یوگنڈا اور اور گبون کے صدور نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ان تمام سربراہان کی موجودگی میں تقریباً 100 ٹن کے ہاتھی دانت اور 1.35 ٹن کے گینڈے کے سینگ کے ذخیرے کو نذر آتش کیا جائے گا۔

ivory-2

ماہرین کے مطابق افریقہ میں ایک صدی پہلے جتنے ہاتھی تھے اب ان کا صرف 10 فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے۔ افریقہ میں ہر سال ہاتھی دانت کے حصول کے لیے 30 ہزار ہاتھی مار دیے جاتے ہیں۔ تنزانیہ میں پچھلے 5 سال میں ہاتھیوں کی آبادی میں 65 کمی ہوچکی ہے۔

اسی طرح گینڈے کے سینگ کی قیمت 60 ہزار ڈالر ہے جو سونے یا کوکین سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

ivory-3

ہاتھی دانت کی اس وقت دنیا بھر میں مانگ ہے۔ اسے زیورات، مجسمے اور آرائشی اشیا بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ خوبصورت اور شفاف ہونے کی وجہ سے یہ نہایت مہنگا ہے اور دولت مند افراد اسے منہ مانگے داموں خریدنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں