The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی 40 فیصد آبادی ہاتھ دھونے کی سہولیات سے محروم

آج دنیا بھر میں ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا جارہا ہے، پاکستان میں 40 فیصد آبادی کو ہاتھ دھونے کے لیے صاف پانی اور صابن کی سہولت میسر نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت دنیا کی 40 فیصد آبادی یعنی 3 ارب افراد ہاتھ دھونے کے لیے صاف پانی اور صابن سے محروم ہیں یا پھر وہ اس اہم عمل کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ افراد بیت الخلا کے استعمال کے بعد، کھانا کھانے سے قبل اور بعد میں ہاتھ نہیں دھوتے۔ پاکستان میں بھی ہاتھ نہ دھو سکنے والوں کا تناسب اسی طرح ہے یعنی 40 فیصد آبادی ہاتھ دھونے کی سہولیات اور شعور سے محروم ہے۔

ہاتھ نہ دھونے سے سب سے بڑا خطرہ ڈائریا یعنی اسہال کا ہے جو مناسب طریقے سے ہاتھ دھونے سے 35 فیصد کم ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جراثیم زیادہ تر کھانے پینے کے دوران انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ ہاتھ، پیر اور منہ کے امراض، جلدی انفیکشن، ہیپاٹائٹس اے اور پیٹ کے امراض بھی ہاتھ نہ دھونے کی عادت کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں ہر سال ڈائریا سے 53 ہزار بچے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں، اور صرف پاکستان ہی کیا دنیا بھر میں اس وقت سالانہ 22 لاکھ اموات ایسی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں جن سے صرف درست طریقے سے ہاتھ دھونے سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

ان بیماریوں میں نزلہ، زکام، نمونیا، ہیپاٹائٹس، اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے سنہ 2017 اس حوالے سے خطرناک رہا جب پانی کی کمی اور صحت و صفائی کی سہولیات کے فقدان کے سبب روزانہ 46 بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہیلتھ کیئر سینٹرز بھی اس حوالے سے تشویشناک صورتحال کا شکار ہیں۔ پاکستان میں 24 فیصد اسپتالوں، کلینکس اور دیگر ہیلتھ کیئر سہولیات میں ہاتھ دھونے کی مناسب سہولیات موجود نہیں جس کے باعث طبی عملہ بھی بغیر ہاتھ دھوئے مریضوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

طبی عملے اور مریضوں کے ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے مختلف بیماریوں، جراثیموں اور انفیکشنز کے پھیلاؤ کے خطرے میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانا پکانے، کھانے اور بچوں کو کھلانے سے قبل ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے اور اسے بچوں کی تربیت کا بھی لازمی حصہ بنایا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں