The news is by your side.

Advertisement

”عالمی سطح پر دہشت گردی سے اموات میں کمی، افریقہ میں اضافہ ہوگیا“

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوترش نے کہا کہ دہشت گرد حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد عالمی سطح پر کم ہے لیکن افریقہ میں بڑھ رہی ہے۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی انسداد دہشت گردی کوآرڈینیشن کمپیکٹ کے اجلاس میں بتایا کہ گزشتہ سال عالمی سطح پر دہشت گرد گروہوں سے ہونے والی 48 فیصد اموات افریقہ کے سب صحارا خطے میں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ القاعدہ، داعش اور ان جیسے دہشت گرد گروہ وسطی اور جنوبی افریقہ میں داخل ہو رہے ہیں اور اپنی کاروائیوں کو تیز کر رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دہشت گرد دیرینہ نسلی تنازعات ،ملکی اور ریاستی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کانگو، لیبیا اور صومالیہ جیسے تنازعات سے متاثرہ ممالک میں، دہشت گردی میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے گروہ معاشر ےی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر عالمی سطح پر خرابی پیدا کر رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہاکہ وہ نائیجیریا کے دورے کے دوران اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کرنے کے خواہشمند لوگوں سے ملے ہیں جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو کبھی بوکو حرام سے وابستہ تھے اوروہاں کی خواتین جو تشدد اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں جس کا وہ طویل مدت سے سامنا کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تمام ایسے متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم ان کی زندگی دوبارہ معمول پر واپس آنے تک امداد جاری رکھیں گے، لوگوں کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بوکو حرام کے بہت سے سابق جنگجو معاشرے میں دوبارہ ضم ہو رہے ہیں اور وہاں کے لوگوں کے اس رویے نے اپنے طور پر بوکو حرام میں دہشت گرد کارروائیوں کو کمزور کردیا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے لیے ایک مربوط اور جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔

انہوں نے اس موقع پر صحت، تعلیم، تحفظ، صنفی مساوات اور انصاف کے نظام میں سرمایہ کاری کرنے پر زور دیا، دنیا کے کچھ پیچیدہ ترین مسائل سے نمٹنے کے لیے انسانی حقوق کی پاسداری بہت ضروری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں