The news is by your side.

Advertisement

میرے پاس تم ہو:‌ خلیل الرحمان قمر نے کئی رازوں‌ سے پردہ اٹھا دیا

کراچی: اے آر وائی ڈیجیٹل کے شہرہ آفاق ڈرامے میرے پاس تم ہو سمیت دیگر نامور ڈراموں کے اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمان قمر نے کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا۔

خلیل الرحمان قمر نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’ہرلمحہ پرجوش‘ میں شرکت کی اور میزبان وسیم بادامی کے معصومانہ سوالات کے جوابات دیے۔

میرے پاس تم ہو ڈرامے پر گفتگو کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر کا کہنا تھا کہ ’جب ڈرامہ شہرت کی بلندیوں کو پہنچ گیا تو بہت ساری اداکاراؤں نے شہرت حاصل  کرنے کے لیے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ڈرامے میں کام کرنے سے خود انکار کیا‘۔

اپنی بات کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے اسکرپٹ رائٹر کا کہنا تھا کہ ’ایسے تو میں بھی یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ مجھے امریکا کا صدر بننے کی پیش کش ہوئی مگر میں نے ٹرمپ کو موقع دینے کا مشورہ دیا‘۔

خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہدایت کار ندیم بیگ نے معمول کے مطابق تین اداکاراؤں کو ڈرامے میں کام کرنے کی اپنے طور پر پیش کش کی‘۔

میرے پاس تم ہو کے آخری سین پر پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں خلیل الرحمان نے آپ بیتی سنائی اور بتایا کہ ’میں ایک روز اسٹوڈیو میں تھا تو اسی دوران بھائی کی کال آئی جس نے بتایا کہ والد کو ہارٹ اٹیک ہوا، میں والد کے اسپتال پہنچنے کے 12 منٹ بعد وہاں پہنچا اور دس فٹ دور سے دیکھا تو ای سی جی مشین میں دل کی دھڑکن ظاہر کرنے والی لائن بالکل سیدھی تھی مگر والد بھائی سے گفتگو کررہے تھے‘۔

’’ڈاکٹرز نے مجھے بتایا والد کے پاس 10 سے 12 منٹ کا وقت باقی ہے جس پر میں نے بھائی کو کمرے سے باہر بلایا اور والد کے پاس خود چلا گیا، وہ مجھ سے بات کررہے تھے کہ اسی دوران  اُن کی پہلے آواز بند ہوئی اور پھر سانس اکھڑی جس کے بعد وہ انتقال کرگئے‘‘۔

خلیل الرحمان قمر نے بتایا کہ میں وہ کام نہیں کرتا جس کا کبھی تجربہ نہ رہا ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں اسکرپٹ رائٹر کا کہنا تھا کہ ’ہمایوں سعید نے آخری لمحے میں منہ پر سے آکسیجن ماسک اس لیے ہٹایا کہ وہ بات نہیں کرسکتا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’میرے پاس تم ہو کی آخری قسط ایک ہی ریکارڈ ہوئی اور وہی دکھائی گئی، ہمایوں سعید نے تین قسطیں ریکارڈ کرنے کی بات اپنے طور پر تشہیر کے لیے کی تھی‘۔

اسکرپٹ رائٹر کا کہنا تھا کہ ’میرا پہلے دن سے مؤقف ہے اچھی عورت کو انکار کا اختیار ہے جبکہ اچھے مرد کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کیونکہ عورت فطرتاً باوفا اور مرد بے وفا ہوتا ہے‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں