spot_img

تازہ ترین

امریکا وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ مشترکہ مفادات آگے بڑھانے کا خواہاں

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر...

وزیراعلیٰ کے پی آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور آج اڈیالہ جیل...

الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی...

شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا حلف اٹھالیا

اسلام آباد : شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا...

بلاول بھٹو کی ‘چھ چھ مرتبہ منتخب ہونے والے بزرگوں’ سے اپیل

اسلام آباد : چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے...

گوگل میپ استعمال کرنے والوں کیلئے اہم خبر

گوگل میپ ایک عام لوکیشن نیویگیشن ہے جس میں آپ اپنی پسند کی کوئی بھی جگہ تلاش کرسکتے ہیں اور اب جدید ٹیکنا لوجی کی بدولت مطلوبہ مقام کی تصاویر اور اس کے بارے میں مکمل تفصیلات بھی حاصل ہوسکیں گی۔

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے میپس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹولز کے استعمال کی آزمائش شروع کردی۔

گوگل نے اپنی بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ابتدائی طور پر اے آئی ٹولز کی آزمائش صرف امریکا میں کی جا رہی ہے اور مذکورہ ٹولز تک محدود ٹوئر گائیڈز کو دی گئی ہے۔

مذکورہ اے آئی فیچرز کے تحت گوگل میپس میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اب جیسے ہی کوئی صارف میپس میں کسی بھی شہر میں کسی خاص مقام یا موضوع سے متعلق معلومات جاننے کی کوشش کرے گا تو میپ اسے مطلوبہ معلومات فراہم کرے گا۔

یعنی اگر کوئی بھی انجان شخص کراچی آنے کے بعد میپ پر شہر کی تاریخی عمارتوں سے متعلق معلومات تلاش کرے گا تو اے آئی ٹولز کے ذریعے میپ صارف کو شہر کی تمام تاریخی عمارتوں کی لوکیشن، معلومات اور تصاویر دکھائے گا۔

اسی طرح کوئی بھی شخص پارکس، شاپنگ پلازہ یا اسی طرح کے دیگر مقامات سے متعلق معلومات تلاش کرے گا تو اسے گوگل میپ تصاویر اور لوگوں کے تبصروں سمیت تمام متعلقہ معلومات فراہم کرے گا۔

یہی نہیں بلکہ مذکورہ فیچر کے تحت صارف کسی بھی عمارت، مقام یا لوکیشن سے متعلق مزید اضافی معلومات پوچھنا چاہے گا تو بھی اسے مزید معلومات سوال و جوابات کی صورت میں فراہم کردی جائے گی۔

مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو چند منٹوں میں بیٹھے بیٹھے کسی بھی شہر کی عمارتوں، مقامات اور لوکیشنز سے متعلق معلومات حاصل ہو سکے گی۔

مذکورہ فیچر کی امریکا میں کامیاب آزمائش کے بعد اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر رواں برس کے اختتام تک اسے دنیا بھر میں عام صارفین کے لیے بھی پیش کردیا جائے گا۔

Comments

- Advertisement -