لاہور: 14 سالہ طالب علم کا نام گوگل کے ہال آف فیم میں شامل -
The news is by your side.

Advertisement

لاہور: 14 سالہ طالب علم کا نام گوگل کے ہال آف فیم میں شامل

لاہور: گوگل نے آن لائن سیکیورٹی کے کئی نظاموں میں خرابیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنے پر نوعمر طالب علم محمد شہزاد کا نام ہال آف فیم میں شامل کرلیا گیا ہے۔

goo

پاکستانی کمسن طالب علم محمد شہزاد محمد شہزاد انتہائی کم عمری سے گوگل کے علاوہ دیگر کمپنیز کی سروسز میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف گوگل کے ہال آف فیم میں ہی نہیں بلکہ ان کا نام مائیکروسافٹ، ایپل، ای بے اور ٹوئٹر کے ہال آف فیم میں بھی شامل ہے۔

شہزاد نے پہلی مرتبہ صرف 12 سال کی عمر میں گوگل اینڈروئیڈ اور اینڈروئیڈ 4.4 لاک بائی پاس میں وی آر پی کی عدم موجودگی دریافت کی اور گوگل کو اس بارے میں مطلع کیا، جس پر انھیں شکریہ کی ایک ای میل موصول ہوئی۔

goog1

شہزاد نے گوگل کو خامیوں سے آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس وقت بھی گوگل میں ایسی کئی خرابیاں اور کمزوریاں دور کرنے پر کام جاری ہے، جن کی نشاندہی شہزاد نے کی تھی، گوگل نے شہزاد کی اس مہارت پر اس کانام ’’ہال آف فیم‘‘ میں شامل کیا۔

ahmed
شہزاد کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر میں اس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی لیکن جب ان کے والد کا ای میل اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا۔ تو زندگی کا پہلا موقع تھا جب ہیک کا لفظ سنا تھا، اس حوالے سے چھان بین کرتے ہوئے انھیں اس چیز میں دلچسپی پیدا ہوئی اور یہی موقع میرے لئے ہیکنگ کی اس نئی دنیا میں داخل ہونے کی وجہ بن گیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا اور میرا نام ہال آف فیم میں شامل ہوجانا ہی اپنے آپ میں ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

واضح رہے کہ ہال آف فیم میں صرف ان ہی افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں، جنہوں نے کسی شعبے میں خصوصی اور اہم خدمات انجام دی ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں