The news is by your side.

Advertisement

وفاقی حکومت کا قبائلی علاقوں میں سرکاری ٹی وی کی نشریات بحال کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے قبائلی علاقوں میں سرکاری ٹی وی کی نشریات بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، فیصلہ وزیراعظم کے باجوڑ جلسہ کے بعد کیا گیا، دہشت گردی کی کارروائیوں میں بوسٹرز تباہ کر دیے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کےعوام کے لئے ایک اور خوشخبری کا اعلان کردیا، حکومت نے قبائلی علاقوں میں سرکاری ٹی وی کی نشریات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فیصلہ وزیراعظم کے باجوڑ جلسہ کے بعد کیا گیا۔

اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے آئی جی ایف سی سے رابطہ کیا اور قبائلی عوام کو اطلاعات و نشریات تک رسائی دینے پر مشاورت کی گئی ، حکومت کا کہنا ہے قومی و سیاسی امور پر اطلاعات کا حصول آسان بنایا جائے۔

آئی جی ایف سی سمیت سیکیورٹی اداروں نے اہم فیصلے پر اتفاق کرلیا ہے ، سرکاری ٹی وی کے بوسٹرز کی دوبارہ تنصیب پر کام شروع کر دیا گیا ہے، قبائلی اضلاع میں سرکاری ٹی وی کی نشریات کاآغازجلدشروع ہو گا۔

خیال رہے دہشت گردی کی کارروائیوں میں بوسٹرز تباہ کر دیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں : قبائلی علاقوں میں10سال تک سالانہ 100ارب روپے خرچ کریں گے‘ وزیراعظم

گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا قبائلی علاقوں کی ترقی کے اپنے وعدے کی تکمیل کی جانب گامزن ہیں، قبائلی علاقوں میں10سال تک سالانہ 100ارب روپے خرچ کریں گے اور قبائلی علاقےکےعوام بے مثال ترقی دیکھیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا ترقیاتی پروگرام کے لیے ہفتے کا مشاورتی عمل باجوڑسے شروع ہو رہا ہے، حکومت قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔

تین روز قبل باجوڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کو جنگ سے بہت نقصان پہنچا لیکن ہر مشکل کے بعد اللہ آسانی پیدا کرتا ہے، انشااللہ قبائلی علاقوں کا آسانی کا وقت شروع ہوگیا ہے۔

جن لوگوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ان سےکسی قسم کی ڈیل نہیں ہوگی ، وزیراعظم

عمران خان کا کہنا تھا کہ 27 سال پہلے جب باجوڑ آیا تھا، قبائلی علاقے سے متعلق کتاب لکھی تھی، اس وقت سے باجوڑ آنے کی کوشش کررہاتھا، اس وقت حالات مشکل تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والا 3 فیصد قبائلی علاقوں پر خرچ کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن پرکسی کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کروں گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں