The news is by your side.

Advertisement

حکومتی فورسز کا موصل میں داعش کے خلاف آپریشن کا آغاز

موصل : عراق میں حکومتی اور کرد سکیورٹی فورسز نےشدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ شہر موصل کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے.

تفصیلات کےمطابق عراقی فورسز اور کرد فورسز نے اتوار کو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کی جانب پیش قدمی شروع کی اور انہیں امریکی اتحاد کی فضائی مدد بھی حاصل ہے.

اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند فضائی حملوں کے بعد بارود سے بھری گاڑیوں سے کرد فورسز پر جوابی حملوں کی کوشش کر رہے ہیں.

کرد فورسز کے ایک کمانڈر کے مطابق موصل میں ہونے والی کارروائی میں پانچ ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں.

موصل میں کارروائی ایک ایسے وقت شروع کی گئی ہے جب عراقی حکومت ملک کے جنوب میں پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہے.

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ موصل کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے خالی کروائیں گے اور داعش کو شکست ہوگی.

دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موصل میں حتمی آپریشن شروع ہونے سے وہاں دنیا کا سب سے سنگین انسانی بحران جنم لے سکتا ہے.

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ دفاعی امور کی ماہر تنظیم آئی ایچ ایس نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 2016 کے پہلے چھ ماہ میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے عراق اور شام میں زیرِ قبضہ رقبے میں 12 فیصد کمی ہوئی ہے.

آئی ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 سے لے کر اب تک دولتِ اسلامیہ کی نام نہاد خلافت کا رقبہ 90,800 مربع کلومیٹر سے کم ہوکر 68,300 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے.

دفاعی امور کی ماہر تنظیم کی رپورٹ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کو اس امر کا اندازہ ہوگیا ہے کہ اس کی خلافت ناکامی کی جانب گامزن ہے جس کے باعث اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں گروہ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوگا.

یاد رہے کہ موصل سے دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا.

واضح رہے کہ عراق میں موصل دولتِ اسلامیہ کے زیر قبضہ آخری بڑا شہر ہے اور اس نے 2014 میں اس پر قبضہ کیا تھا.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں