The news is by your side.

Advertisement

بے پروا، بد دل اور گستاخ شاگرد!‌

شان الحق حقّی اردو زبان و ادب کا روشن حوالہ ہیں‌ جنھوں‌ نے اپنی تخلیقات اور علم و ادب کے لیے اپنی خدمات سے بڑا نام و مقام بنایا۔

ہر حساس طبع، تعلیم یافتہ اور ذی شعور پاکستانی کی طرح ان کی نظر میں بھی اجتماعی ترقّی و خوش حالی کا واحد ذریعہ تعلیم کا فروغ اور خواندہ معاشرہ رہا ہے اور اس حوالے سے ناکامی اور بعض خرابیوں پر نہ صرف حکومت بلکہ اساتذہ کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کئی اہم اور قابلِ غور پہلوؤں پر بات کی ہے۔

ممتاز شاعر، ادیب، ماہرِ لسانیات، محقّق، نقّاد اور مترجم شان الحق حقّی نے مارچ 1967ء میں ‘اردو نامہ’ کے افتتاحیہ پر نظامِ تعلیم اور اساتذہ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کچھ کیوں کیا تھا:

“ہمارا غریب ملک استادوں کو گزارے بھر تنخواہ نہیں دے سکتا، مگر ان کی عزّت اور مرتبے کو ضرور بحال کر سکتا ہے۔ انسان کو زندگی میں قوّت کی ہوس ہوتی ہے جس کے عام مترادف دولت و اقتدار ہیں۔

یہ اگر نہ ہوں تو محبّت ہی سے ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔ استاد کی عزّت وہ تعلیم ہے جو ہمارے بچّے بنیادی عقائد و آداب کے ساتھ اپنے گھر ہی سے سیکھ سکتے ہیں۔ اس کو ہمارے معاشرے کے بنیادی اصول میں داخل ہونا چاہیے، پھر یہ ممکن ہو جائے گا کہ اساتذہ بھی اپنے مرتبے کی شرم رکھیں۔”

“فی الوقت اس طبقے کے بعض بعض افراد زبوں حالی سے زیادہ جس قسم کی زبوں کاریوں میں مبتلا ہیں ان کو دیکھتے ہوئے علم کا مستقبل اس ملک میں تاریک دکھائی دیتا ہے۔ جو استاد طالبِ علموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکیں، جو اس اختیار کو جو انھیں طلبہ کی قسمت پر حاصل ہے رشوت خور اہل کاروں یا اقربا پرور عہدے داروں کی طرح برتیں، جو اپنے علم سے زیادہ اپنی متاع کی نمائش کریں جس میں ان کا شاگردوں سے چوٹ کھا جانا لازمی ہے، وہ اپنے منصب کی عزّت کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔”

“ان پر دنیوی و سیاسی دباؤ کیونکر نہ پڑیں گے۔ ان کے کردار میں جان نہ ہو گی تو ان کی آواز میں کیا جان ہو گی، اور ان کے وہی شاگرد جو ان کے لیے ذریعۂ قوّت ہو سکتے تھے، وہ ان سے بے پروا، بد دل اور گستاخ کیوں نہ ہوں گے۔”

Comments

یہ بھی پڑھیں