The news is by your side.

Advertisement

عزیز آباد کا اسلحہ فوج سے لڑنے کے لیے خریدا گیا، گورنر سندھ

کراچی :گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ عزیز آباد سے ملنے والا اسلحہ ٹارگٹ کلنگ کے لیے نہیں فوج، رینجرز اور پولیس سے لڑنے کے لیے خریدا گیا، سانحہ 12 مئی کے مجرموں کو چوراہے پر لٹکائیں گے،انہوں  نے سانحہ بلدیہ،حکیم سعید اورعظیم طارق قتل کیسز دوبارہ کھولنے کا بھی اعلان کیا۔

گورنرسندھ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس اور اوجھا اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے مصطفی کمال کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ارد شیر کاؤس جی نے اپنے آرٹیکل میں چائنا کٹنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے اس شخص کو مصطفیٰ کدال قرار دیا تھا جو پورے شہر کو کھود کر پیسہ نکال رہا ہے اور ملائیشیا و لندن بھیج رہا ہے۔

اسی سے متعلق : عشرت العباد کرپٹ ترین گورنر ہیں،مصطفیٰ کمال

ڈاکٹر عشرت العباد اپنے مزاج کے بر عکس جارحانہ انداز گفتگو کرتے ہو کہہ رہے تھے کہ انتہائی گھٹیا ،کم ظرفی، ذہنی پستی اور بائی پالر کا شکار ہیں ،مصطفی کمال اوجھا کیمپس آئیں ان کے ذہنی توازن کا علاج ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال قائد ایم کیو ایم کے را سے متعلق تعلقات کے بارے میں جاننے کے باوجود سینیٹر شپ سے استعفیٰ نہیں دے رہے تھے ،انہیں بلوا کر استفعی مانگا گیا اور استعفی کے بعد بھی وہ ایک سال خاموش رہے اور پھر اچانک شہر میں وارد ہو کر لیکچر دینے لگے ہیں،پارٹی قیادت پر را سے تعلق کا الزام عائد کرنے والا اسی جماعت کا سینیٹر رہا۔

یہ پڑھیے : مصطفیٰ کمال کا ذہنی توازن درست نہیں، ڈاکٹرعشرت العباد

گورنر سندھ کا کہناتھا کہ کسی کو بھی سیاسی دھول میں چھپنے نہیں دیا جائے گا چاہے وہ نیو کراچی مین کہیں چھپا ہو یا کسی پوش علاقے کے بڑے سیاسی دفتر میں چھپا بیٹھا ہو۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں اسلحہ کی سب سے بڑی کھیپ عزیزآباد سے پکڑی گئی جس کی خریداری میں ایک سیاسی جماعت کی تنظیم کمیٹی کے بڑے عہدیداروں کے نام آرہے ہیں جنہیں گرفتار کریں گے،پکڑا گیا اسلحہ فوج ،رینجرز اور پولیس سے لڑنے کے لیے خریدا گیا تھا۔

گورنر سندھ نےکہا کہ حکیم سعید قتل کیس میں شریف نظر آنے والوں کے نام سامنے آگئے، انہیں  کس نے اور کیوں قتل کیا؟ وہ لوگ بھی نظر میں آگئے ، واضح ثبوت سامنے آنے پر یہ قتل کیس دوبارہ کھولیں گے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رکن عظیم احمد طارق کا قتل کیس بھی کھولیں گے ساتھ ہی سانحہ بلدیہ کے ذمہ داروں اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان بلوچ پر حملہ کرنے والوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

اپنے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں قانونی اور آئینی طور پر اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 12 مئی 2007ء کو جس نے قتل و غارت گری کی اسے چوراہے پر لٹکائیں گے ،اس دن قتل و غارت گری کرنے والا خواہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو ،اسے عبرت ناک سزا دیں گے۔

یہ پڑھیے : سانحہ بلدیہ کی امدادی رقم کھانے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،گورنرسندھ

اس سے قبل کراچی کے پسماندہ علاقے دنبہ گوٹھ میں ایک اسکول اور ٹراما سینٹر کی افتتاحی تقرین سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے وزیر اعلی سندھ، وزیر اعظم پاکستان،سابق سٹی ناظم نعمت اللہ اور موجودہ ڈپٹی میئر ارشد وہرہ کی کراچی کے لیے خدمات پر خراج تحسین پیش کیا جب کہ سابق سٹی ناظم مصطفی کمال کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں