site
stats
پاکستان

پرائمری تا یونیورسٹی قرآن پاک کی تعلیم لازم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک قرآن پاک کی تجوید کے ساتھ تعلیم کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک قرآن پاک کی تجوید کے ساتھ تعلیم کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے قرآن ریسرچ اکیڈمی کے ساتھ وفاقی سطح پر قرآن کمپلیکس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذہبی امور نے قرآن پاک کی تعلیم کو لازم کرنے کے لیے بل تیار کرلیا ہے جسے ایوان سے منظور کروایا جائے گا۔

سفارشات کے مطابق تعلیمی اداروں میں موجود مسلم طلبا کو قرآن پاک کی تعلیم لازمی دی جائے اور تمام اسکول انتظامیہ کو اس بات پر پابند کیا جائے کہ آدھے گھنٹے کا وقت قرآن مجید کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے، طلباء کو تجوید کے ساتھ قرآن مجید کی تعلیم دینے کےلیے ماہر قاری حضرات کی خدمات حاصل کی جائیں۔

پڑھیں: پنجاب کے اسکولوں میں‌ قرآن مجید کی تعلیم لازمی قرار

وزارتِ مذہبی امور نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ پرائمری طلبا کو پہلی سے پانچویں جماعت تک ناظرہ جبکہ چھٹی سے 12 ویں جماعت تک قرآن مجید کی تعلیم ترجمے کے ساتھ دی جائے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی سطح پر قرآنی تعلیمات کی یقینی بناتے ہوئے بچوں کو زیادہ سے زیادہ قرآنی آیات یاد کروائی جائیں۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل منظور

علاوہ ازیں یونین کونسل کی سطح تک تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں گے جہاں قرآن پاک کو حفظ کرانے، صیح تلفظ و اشاعت اور تبلیغ کے انتظامات کیے جائیں گے،  اس ضمن میں آڈیو، وڈیو ٹیکنالوجی کو بھی استعمال کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ وزارتِ مذہبی امور کے تحت اسلام آباد میں قرآن کمپلیکس قائم کیا جائے گا جس میں سرکاری سطح پر قرآن مجید کی تعلیم دی جائے گی اور نادر و نایاب قرآن مجید کے نسخے بھی یہاں موجود ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top