The news is by your side.

Advertisement

حکومت کا تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے جاب بینک بنانے کااعلان

لاہور: معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت تھلسیمیا کے مریضوں کے لیے ’جاب بینک‘ بنارہی ہے تاکہ ان کی معاشی مشکلات کو آسان بنایا جاسکے۔

اس بات کا اعلان انہوں نے لاہور پریس کلب میں صحافی، کالم نگار اور سماجی کارکن منو بھائی کی دوسری برسی کے موقع پر ہونے والی تعزیتی تقریب میں کیا۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے ملازمتوں کا بندوبست کیا جائے گا تاکہ اُن کے معاشی حالات بہتر ہوں۔

یاد رہے کہ تھیلیسیمیا کے مریض اپنی بیماری کی وجہ سے ملازمت نہیں کرپاتے کیونکہ اُن کی طبیعت کسی بھی وقت خراب ہوجاتی ہے، اسی وجہ سے عام طور پر متاثرہ افراد کو معاشی تنگ دستی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

تھیلیسیمیا کیا ہے؟

تھیلیسیمیا (Thalassemia) ایک موروثی بیماری ہے یعنی یہ والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کو منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔

جینیاتی اعتبار سے تھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں جنہیں الفا تھیلیسیمیا اور بی ٹا تھیلیسیمیا کہتے ہیں۔ نارمل انسانوں کے خون کے ہیموگلوبن میں دو الفا alpha اور  بی ٹا beta زنجیریں chains ہوتی ہیں۔

ہیمو گلوبن کی الفا زنجیر بنانے کے ذمہ دار دونوں جین (gene) کروموزوم نمبر 16 پر ہوتے ہیں جبکہ بی ٹا زنجیر بنانے کا ذمہ دار واحد جین HBB کروموزوم نمبر 11 پر ہوتا ہے۔

الفا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی الفا چین کم بنتی ہے جبکہ بی ٹا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی بی ٹا زنجیرbeta chain کم بنتی ہے۔ اس طرح خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں۔ شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائینر کہلاتی ہے۔ درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا کہلاتی ہے۔

ایک طرح کا تھیلیسیمیا کبھی بھی دوسری طرح کے تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا یعنی الفا تھیلیسیمیا کبھی بھی بی ٹا تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بی ٹا کبھی الفا میں تبدیل ہوتا ہے، اسی طرح نہ تھیلیسیمیا مائینر کبھی تھیلیسیمیا میجر بن سکتا ہے اور نہ ہی میجر کبھی مائینر بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت عوام کو صحت کے حوالے سے ریلیف فراہم کرنے کی خواہش مند ہے جس کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت نے اس ضمن میں غریب اور نادار افراد کو صحت انصاف کارڈ بھی تقسیم کیے جس کے ذریعے وہ مفت علاج کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔

تھیلیسیمیا کا علاج

تھیلیسیمیا ایک ایسی جینیاتی بیماری ہے جو ساری زندگی ٹھیک نہیں ہوتی، اگر خون کی کمی ہو تو تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد کو روزانہ ایک ملی گرام فولک ایسڈ (Folic acid) کی گولیاں استعمال کرنا پڑتی ہیں تاکہ ان میں خون کی زیادہ کمی نہ ہونے پائے۔  اسی طرح خواتین میں حمل کے دوران اس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

بی ٹا تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا افراد کو ہر دو سے چار ہفتوں کے بعد خون چڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک بوتل خون میں تقریباً 250 ملی گرام لوہا (Iron) موجود ہوتا ہے جسے انسانی جسم چار ہفتوں میں پوری طرح خارج نہیں کر سکتا۔

بار بار خون کی بوتل چڑھانے سے جسم میں Iron کی مقدار نقصان دہ حد تک بڑھ جاتی ہے اور اس طرح Hemosiderosis کی بیماری ہو جاتی ہے جو دل اور جگر کو بہت کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے بار بار خون لگوانے والے مریضوں کو iron chelating دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں جو جسم سے زائید iron خارج کر دیتی ہیں۔

تھلیسیمیا میجر کا علاج ہڈی کے گودے کی تبدیلی bone marrow transplant سے بھی ہو سکتا ہے جس پر 15 سے 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ الفا تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچے کم عمری میں ہی مر جاتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں