سندھ میں کوئی کام ٹھیک ہو بھی رہا ہے؟ چیف جسٹس -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں کوئی کام ٹھیک ہو بھی رہا ہے؟ چیف جسٹس

کراچی: وزرا کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران گاڑیوں کے استعمال سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وزرا کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ لگژری گاڑیوں سے متعلق تمام صوبوں کی درخواستیں اسلام آباد میں یکجا کردی گئیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کا معاملہ اسلام آباد میں سنیں گے۔ انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ بتایا جائے کتنی گاڑیاں تحویل میں لیں؟

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ 149 لگژری گاڑیاں تحویل میں لے لی ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ گاڑیاں کہاں کھڑی ہیں اور کیسے استعمال کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: جو عدالت کو گالیاں دیتے ہیں انہیں ہی سیکیورٹی دے دی، چیف جسٹس

ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ایک پول بنایا گیا ہے استعمال کا طریقہ بھی طے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق نوٹیفکیشن بھی پیش کیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فیلڈ ورک اور خصوصی مقاصد کے لیے لگژری گاڑیاں استعمال کی جائیں گی۔ فیلڈ ورک اور خصوصی مقاصد کے استعمال کے لیے فی دن 25 ہزار ادا کرنا ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب ہے اب سندھ حکومت نے گاڑیاں کرائے پر دینا شروع کر دیں، ’سندھ میں کوئی کام ٹھیک ہو بھی رہا ہے۔ بدنیتی کی بنیاد پر کام کیا جارہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے تحت وزرا پھر سارا دن یہ گاڑیاں استعمال کر سکیں گے۔ ورزا کو پجارو سے کم گاڑی پسند ہی نہیں آتیں۔

چیف جسٹس نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق مذکورہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 28 جون تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں