site
stats
پاکستان

وزیرمشتاق غنی کے بھائی کےگھرکمسن ملازمہ کی ہلاکت،پوسٹ مارٹم کیلئے مصباح کی قبرکشائی آج ہوگی

ایبٹ آباد: خیبر پختو نخوا کے وزیر مشتاق غنی کے بھائی کےگھرکمسن ملازمہ کی پراسرار ہلاکت کے معاملے پر پوسٹ مارٹم کیلئے مصباح کی قبرکشائی آج ہوگی جبکی سپریم کورٹ نے واقعہ کا ازخودنوٹس لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختو نخوا کے وزیر مشتاق غنی کے بھائی کے گھر کمسن ملازمہ کی موت کیسے ہوئی، پوسٹ مارٹم کے بعددودھ کا دودھ پانی ہو جائے گا۔

عدالت کے حکم پر12سالہ مصباح کی قبر کشائی اور پوسٹمارٹم آج کیا جائے گا، عدالت نے پوسٹمارٹم کے دوران ماہر فرانزک ایکسپرٹ کی خدمات لینے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان نے 12 سالہ ملازمہ کی پراسرار ہلاکت کا ازخود نوٹس لیا ہوا ہے اور آئی جی خیبر پختونخوا کو تین دن میں رپورٹ جمع کرانےکی ہدایت کی ہے۔

گذشتہ روز فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ ڈی آئی جی ہزارہ سعید وزیرکو پیش کی ، رپورٹ آئی جی خیبر پختونخواہ صلاح الدین محسود کو ارسال کی جائے گی۔


مزید پڑھیں : صوبائی وزیر مشتاق غنی کے بھائی کے گھر کمسن گھریلو ملازمہ کی ہلاکت، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل


فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی کی درخواست پرمجسٹریٹ نے حقائق جاننے کے لئے مصباح کی قبر کشائی کی اجازت دی جبکہ مصباح کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کے لئے سیکرٹری صحت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کمسن گھریلو ملازمہ مصباح ہلاکت کیس میں ڈی آئی جی ہزارہ سعید وزیرنے سول سوسائٹی اور افسران کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی، کمیٹی کی سربراہی چائلڈ پروٹیکشن آفیسر اور ڈی پی او نے کی جبکہ کمیٹی میں ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل سلیم ایاز رانا بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ بارہ سال کی مصباح اپنی بہن اقصی کے ہمراہ شعیب غنی کے گھر ملازمہ تھی، چا روز قبل اسے تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا، مصباح کی لاش راتوں رات گاؤں روانہ کر دی گئی،پوسٹ مارٹم کرایا گیا نہ پولیس کو کانوں کان خبر ہوئی۔

آئی جی خیبرپختونخواہ نے واقعے کا نوٹس لیا، جس کےبعدازسر نو تفتیش شروع کر دی گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top