The news is by your side.

Advertisement

’بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کے لیے بڑا اعزاز

امریکا میں سیاہ فام شہری کی پولیس کے ہاتھوں بے دردی سے ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں چلنے والی ‘بلیک لائیوز میٹر’ تحریک کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کردیا گیا۔

یورپی ملک ناروے کے پارلیمنٹ کے ایک ممبر کا کہنا ہے کہ نسلی تعصب کے خلاف یہ تحریک ایک مضبوط طاقت بن چکی ہے جس کے ذریعے دنیا کو آگاہی فراہم کی جارہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ خیال رہے یہ تحریک دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

رواں سال جون میں امریکا میں جارج فلائیڈ نامی سیاہ فام کی پولیس حراست میں موت واقع ہوئی تھی، وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک اہلکار سیاہ فام کی گردن پر گھٹنا دبائے بیٹھا ہے، معصول شہری نے کراہتے ہوئے التجا بھی کی کہ مجھے چھوڑ دو میرا دم گھٹ رہا ہے لیکن قاتل باز نہ آیا جس کے باعث اس کی موت ہوگئی۔

جارج فلائیڈ کا قاتل رہا ہوگیا

جس کے بعد دنیا بھر میں بلیک لائیوز میٹر تحریک شروع ہوئی اور مظاہرے پھوٹ پڑے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد شدید عوامی دباؤ اور دنیا بھر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ مرکزی ملزم سفید فام پولیس اہلکار ڈریک شیاوین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمے میں سخت دفعات شامل کی گئیں۔ واضح رہے کہ نومل انعام کا اعلان اکتوبر کے اوائل میں ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں