The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر

ریاض: سعودی عرب یا دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی دو سال میں ایک مرتبہ اپنی استعمال شدہ گاڑی قریبی رشتے دار کو بھیج سکتے ہیں جس کے لیے مندرجہ ذیل قوائدوضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے پاکستانی دو اصولوں کے تحت گاڑی بھیج سکتے ہیں جن میں گفٹ اسکیم اور پرسنل بیگج یعنی ذاتی سامان جو خروج نہائی (ایگزٹ ) شامل ہیں۔ جبکہ یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ پانچ سیٹر گاڑی 3 سال اور سات سیٹر گاڑی 5 سال سے زیادہ پرانی نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستانی سفارتخانے یا قونصلیٹ کا کمرشل سیکشن وہیکل امپورٹ فارم جاری کرتا ہے۔ سعودی قونصلیٹ کے متعلقہ ترجمان نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ بھیجی جانے والی گاڑی پر کسٹم ڈیوٹی نہیں ہوتی حالانکہ یہ تاثر غلط ہے، پرانی گاڑی کے حساب سے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے مملکت سے گاڑی بھیجنے والے کو ڈیوٹی کی رقم بھی باہر سے ٹرانفسر کرنا ضروری ہے، گاڑی پاکستان پہنچنے پر ڈیوٹی وصول کی جائے گی اور ملکی کسٹم حکام، سفارت خانہ یا قونصلیٹ ٹیکس کے علاوہ دیگر قانونی اور دستاویزی معاملات نمٹائیں گے۔

ضروری دستاویزات

گاڑی بھیجنے والے شخص کی اقامہ کی کاپی درکار ہوگی، جبکہ ماہانہ آمدن کا سرٹیفکیٹ جو کہ چیمبر آف کامرس ( غرفہ تجاریہ) سے تصدیق شدہ ہو۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ کی کاپی جس پر سعودی عرب میں پہلی بار آنے کی مہر لگی ہونا بھی ضروری ہے۔ وصول کنندہ کی شناختی کارڈ کی کاپنی درکار ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں