The news is by your side.

Advertisement

قدرتی آفات کا خطرہ، گرین ہاؤس گیسز کی کثافت میں خطرناک اضافہ

نیویارک: عالمی موسمیاتی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وبا کے باوجود 2020 میں فضا میں گرمی پیدا کرنے والی گیسز کا اضافہ ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی ماحولیاتی ایجنسی کی ایک جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کی عالمی کثافت گزشتہ سال ریکارڈ سطح تک بلند رہی۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے پیر کے روز ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین، اور نائٹرس آکسائیڈ کی کثافت کی عالمی اوسط کے لیے بین الاقوامی موسمیاتی ایجنسیوں کے 2020 کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ 1984 میں اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے جانے کے بعد مذکورہ تینوں گیسز کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔

سی او ٹو، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کی مقدار میں پچھلے 10 سالوں میں سالانہ اوسط سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ اس سے پیرس معاہدے کے اہداف سے زیادہ درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔ انھیں فکر ہے کہ ہماری گرم دنیا قدرتی ذرائع سے اخراج کو بڑھا رہی ہے۔

گزشتہ سال کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح 413.2 پی پی ایم یعنی پارٹس فی ملین، میتھین کی 1 ہزار 889 پی پی بی یعنی پارٹس فی بلین اور نائٹرس آکسائیڈ کی 333.2 پی پی بی ریکارڈ کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2019 کے مقابلے میں 2020 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی فضا میں کثافت 2.5 پی پی ایم، میتھین کی 11 پی پی بی اور نائٹرس آکسائیڈ کی 1.2 پی پی بی زیادہ تھی۔

کووِڈ 19 کے باعث عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے گزشتہ سال معدنی ایندھن سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ میں 5.6 فی صد کمی آنے کے باوجود، مذکورہ ہر گیس کی کثافت میں اضافہ گزشتہ 10 سالوں کی سالانہ اوسط کے مقابلے میں زیادہ رہا۔

اعداد و شمار کے تجزیے میں شامل جاپان کے محکمہ موسمیات کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے پر توجہ نہ دیے جانے کی صورت میں خشک سالی اور شدید بارشوں جیسی قدرتی آفات پہلے سے زیادہ آئیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں