The news is by your side.

Advertisement

ایکواڈور: بچے باپ کی لاش کے ساتھ قرنطینہ میں رہنے پر مجبور

جنوبی امریکی ملک ایکواڈور میں  کرونا سے مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد وہاں تدفین کی جگہ ختم ہوگئی، چند روز قبل مرنے والے شخص کے بچے باپ  کی لاش کے ساتھ ہی آئسولیشن میں چلے گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جنوبی امریکی ملک ایکواڈور کے شہر گویاکوئل میں کرونا کی وبا نے قہر برسانا شروع کردیا اور اب تک وبا سے متاثر ہونے والے دو ہزار کے قریب شہری دورانِ علاج دم توڑ چکے ہیں۔

کرونا سے متاثرہ شخص نے خاموشی سے بیوی اور بچوں کے ساتھ خود کو گھر میں قرنطینہ کیا اور اس دوران وہ مر گیا۔

ایکواڈر میں بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد حکومتی مشینری نے کام کرنا چھوڑ دیا کیونکہ تدفین کی جگہ بالکل ختم ہوگئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دکھایا گیا ہے کہ محکمہ صحت کے حکام ایک گھر سے مرد کی لاش نکال رہے ہیں۔

جائے موقع پر کھڑی خاتون اور بچے مرنے والے شخص کی لاش کو لے جانے کی اجازت نہیں دے رہے اور حکام سے اپیل بھی کررہے ہیں۔

خاتون نے حکام کو بتایا کہ اُن کے خاوند کئی روز قبل انتقال کرگئے تھے، ہم آخری رسومات کے حوالے سے حکومت کے منتظر تھے کہ وہ آئے اور بندوبست کرے مگر ایسا نہ ہوا۔

خاتون اور بچوں کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ صحت کے حکام اور ریسکیو ادارے کے اہلکار لاش کو اپنے ہمراہ لے گئے اور اُس کی تدفین کردی۔

رپورٹ کے مطابق ایکواڈور کے بہت سے شہریوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں گھروں میں رکھ لی ہیں۔ چند شہریوں نے لاشوں کو پلاسٹک بیگز میں بند کر کے رکھا ہوا ہے۔

انٹرنیٹ پر ایک خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ زاروقطار روتے ہوئے حکومت سے مدد طلب کررہی تھیں کہ وہ شوہر کی لاش کو گھر سے نکالے تاکہ آخری رسومات کی جاسکے کیونکہ اب بہت دیر ہوچکی ہے اور لاش خراب ہورہی ہے۔

خاتون نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ لاش کو جلائیں نہیں کیونکہ یہ اُن کے اہل خانہ کے لیے بہت تکلیف دہ بات ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں