The news is by your side.

Advertisement

25 اپریل 1937 کی وہ ‘واردات’ جسے تصویر کا موضوع بنایا گیا

اسپین کی خانہ جنگی (1939-1936) کے دوران 25 اپریل 1937ء کو جنرل فرانکو کی ہوائی فوج نے گیرنیکا کے قصبے پر بم باری کی۔ پیرس کے عالمی میلے میں اسپینی پویلین کے لیے پکاسو کو بڑی دیواری تصویر بنانے کے لیے کہا گیا تو اس نے اس واردات کو اپنی تصویر کا موضوع بنایا۔

”گیرنیکا اپنے فنی طریقِ کار کی جدّت اور پختگی کے لیے جدید فن کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور اس پر کتابیں تک لکھی جا چکی ہیں۔

”گیرنیکا“ پر گویا (فرانسسکو گویا، مصوّر) کے بھی اثرات ہیں۔ سیاہ، سفید اور خاکستری رنگوں کی تختیوں کا استعمال گویا کے نقوش سے مناسبت رکھتا ہے۔ ہنہناتے ہوئے زخمی گھوڑے کے پیٹ میں لکیریں اخبار کے صفحے کا سا تاثر دیتی ہیں اور مکبعیت کی اس ہیئت سے متعلق ہیں جہاں کولاژ میں بعض اوقات اخبار کو چسپاں کر دیا جاتا تھا۔ گویا کے برعکس پکاسو واردت کی جگہ سے دور تھا اور یہ خبر اس تک ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے ہی پہنچی تھی۔

پکاسو نے شہری آبادی کے مصائب پر توجہ دی ہے، مگر یہ عکاسی نہیں۔ یہاں سامنے کی واردات اور فینٹسی کے پیکر گھل مل کر عجیب شکل اختیار کر گئے ہیں اور اسپنسر کے خیال میں یہ سوچی سمجھی تمثیل بھی ہے۔ خود پکاسو نے اس تصویر میں سانڈ کو ظلمت اور بربریت کی علامت بتایا اور گھوڑا ان لوگوں کا اجتماعی استعارہ ہے جو اس بربریت کا شکار ہوئے۔ سانڈ کے چہرے کے نیم تاریک سائے میں ایک عورت اپنے مردہ بچے کو لیے ہے۔ پکاسو کی یہ تصویر اور اس کی تمثیلی معنویت یہیں تک نہیں جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے۔ اگر پکاسو کے پیکروں کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو اس کی مزید گہری سطحوں تک بھی رسائی ہو سکتی ہے۔

جوزف کیمبیل نے اپنی تصنیف Creative mythology میں پکاسو کی ”گیرنیکا“ کی علامتی نوعیت پر مفصل بحث کی ہے۔ ان کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ ان پیکروں کی معنویت کہیں گہری ہے۔ سانڈ کی علامت اسپینی بل فائٹ کے میدان سے لی گئی ہے۔ اور ہسپانوی مزاج کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ پھر جس قصبے پر بم باری ہوئی وہاں کے کسان ان انسانی نسلوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کے ذہن کی عمیق تہوں میں وہ اساطیری رسوم دبی ہوئی ہیں جن کا تعلق سانڈ یا بیل یا قربانی سے ہے اور جہاں سانڈ کو بار بار مرنے اور زندہ ہونے والے کے روپ میں زندگی کی لہروں کا ترجمان سمجھا جاتا تھا۔

جوزف کیمبیل نے پکاسو کے رمزی پیکروں کی اساطیری معنویت کو جس تفصیل سے بتایا ہے اُس سب کا بیان یہاں غیر ضروری طوالت کا باعث ہو گا۔ وہ ان قدیم علامتوں کے حوالے سے پکاسو کے فن کی اس حیرت انگیز قوت کی داد دیتے ہیں جو ان پیکروں کو اس طرح کی نئی معنویت دینے پر قادر ہے۔

جوزف کیمبیل کا کہنا ہے کہ پکاسو کی اس تصویر میں سیاہ و سفید کے انتخاب نے افلاطون کی غار میں سایوں کی تمثال جیسی معنویت پیدا کر رکھی ہے، جہاں اصل اور نقل کا پتا چلانا مشکل ہے۔ پکاسو کے طریقِ کار سے فن اور انسانی تقدیر کے مسئلے کے کئی جہتوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ وہ ایک خبر کے حوالے سے تصویر بنانے نکلا مگر خبر تک نہیں رہا، انسانی واردات کی عمیق گہرائیوں سے اُس نے وہ پیکر نکالے جن کا تعلق انسان کے وجود کی بعض بنیادی سچائیوں سے ہے۔

یہ صحیح ہے کہ ہر فن کار گویا یا پکاسو نہیں ہوتا اور عظیم معیاروں پر ہر فن کو پرکھنا درست نہیں ہو سکتا۔ تاہم درجہ بندی کو ایک طرف رکھ کر فنی طریقِ کار سے تو کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

( ڈاکٹر سہیل احمد خان، مضمون ’فنونِ لطیفہ اور انسانی تقدیر‘ سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں