The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں آسٹرازینیکا ویکسین کون لگوا سکتا ہے کون نہیں، اہم ہدایات جاری

اسلام آباد: آسٹرازینیکا کرونا ویکسین کے استعمال سے متعلق عبوری گائیڈ لائنز جاری ہو گئیں، پاکستان نے 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے آکسفورڈ کی اس ویکسین کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزارت قومی صحت نے آسٹرازینیکا کرونا ویکسین کی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جو ویکسین کی اسٹوریج اور استعمال میں معاون ہوں گی۔

گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ آسٹرازینیکا کرونا ویکسین کی شیلف لائف 6 ماہ ہے، اسے 2 تا 8 سینٹی گریڈ پر رکھا جائے گا، اس ویکسین کو فریز نہ کیا جائے، اور سورج کی روشنی سے محفوظ رکھا جائے، نیز ویکسین کی اسٹوریج مقررہ درجہ حرارت پر یقینی بنائی جائے۔

گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ 40 سال سے زائد حاملہ، اور دودھ پلانے والی مائیں آسٹرازینیکا ویکسین لگوا سکتی ہیں، 18 سال، اور اس سے زائد عمر کے افراد آسٹرازینیکا ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

بیرون ملک پہلی ڈوز لگوانے والوں کو آسٹرازینیکا ویکسین لگائی جائے گی، بیرون ملک سفر کے منتظر افراد کو بھی آسٹرازینیکا ویکسین لگائی جائے گی، ذیابطیس، ہائپر ٹینشن، اور امراض قلب کے شکار افراد بھی آسٹرازینیکا ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

کرونا کی معمولی علامات والے مریض بھی آسٹرازینیکا ویکسین لگوا سکتے ہیں، اسی طرح کرونا سے صحت یاب افراد آسٹرازینیکا ویکسین لگوا سکتے ہیں، ٹرانسپلانٹ کرانے والے مریض 3 ہفتے بعد آسٹرازینیکا ویکسین لگوا سکتے ہیں، جب کہ کیموتھراپی والے مریض 28 دن بعد آسٹرازینیکا ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

40 سال سے کم عمر خواتین کو آسٹرازینیکا ویکسین نہیں لگائی جا سکتی، شدید الرجی کے شکار افراد کو آسٹرازینیکا ویکسین نہیں لگائی جائے گی، 18 سال سے کم عمر افراد کو آسٹرازینیکا ویکسین نہیں لگائی جا سکتی۔

پہلی ڈوز پر کلاٹنگ کی شکایت والے افراد کو آسٹرازینیکا ویکسین نہ لگائی جائے، بخار میں مبتلا افراد کو آسٹرازینیکا ویکسین نہیں لگائی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں