site
stats
عالمی خبریں

اپوزیشن مجھے پارلیمنٹ میں نہیں بولنے دیتی، مودی کی دہائی

گجرات : بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے کہا ہے کہ کرنسی نوٹوں کی تبدیلی ایک مشکل فیصلہ تھا اور عوام کو تو تکلیف ہو گی لیکن 50 دن کے بعد حالات بہتر ہونے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بے ایمان کو کالے دھن اور بدعنوانی سے کوئی پریشانی نہیں تھی، پریشان صرف ایماندار شہری تھے۔ اپوزیشن مجھے پارلیمنٹ میں نہیں بولنے دیتی اس لئے جلسے میں بول رہا ہوں۔

یہ بات انہوں نے بھارتی ریاست گجرات میں ایک ڈیری پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی، نریندرا مودی نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں بحث ہے کہ نوٹوں کا کیا ہوگا؟ 8 نومبر سے پہلے 100، 50 اور 20 روپے کے نوٹ کو کوئی پوچھتا تھا کیا؟ اب لوگ بڑے نوٹوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہتے۔’

انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ اقدام ملک کو بدعنوانی سے آزاد کرنے کیلیے ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی تنقید کا بے بسی سے جواب دیتے ہوئے مودی کا کہنا تھا کہ ”نوٹ بندی“ کے فیصلے پر اپوزیشن مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیتی اس لئے میں عوامی جلسہ عام میں بول رہا ہوں۔

گزشتہ سترسال تک ان ایماندار لوگوں کو لوٹا گیا، ان کا جینا مشکل کیا گیا، لاکھ اکسانے کے بعد بھی ایماندار لوگوں نے میرا ساتھ دیا ہے۔ مودی کا کہنا تھا کہ 8 نومبر کے بعد جنھوں نے بھی جرم کیے ہیں، انہیں اس کی سزا ملے گی۔

یاد رہے کہ بھاری حکومت کی جانب سے 500 اور ایک ہزارروپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے بھارتی عوام شدید ذہنی اذیت سے دو چارہیں، لوگوں کے پاس کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کے لیے 30 دسمبر تک کا وقت ہے۔

حکومت کے اس فیصلے سے عام لوگوں اور کاروباری طبقے کو سب سے زیادہ مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ بینکوں کے باہر نوٹ تبدیل کرانے کے لیے طویل قطاریں دیکھنے میں آئی ہیں۔

اس بحران کے باعث کئی افراد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اس پالیسی کو بھارت کی تاریخ کا سب ست بڑٓ اسکینڈل قرار دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top