The news is by your side.

Advertisement

امریکی طلبہ گن حملوں کا جواب پتھروں سے دیں گے

ہیرس برگ: امریکی ریاست پنسلی وانیا کے ایک اسکول نے مسلح حملوں سے بچاؤ کا انوکھا طریقہ ڈھونڈلیا ہے‘ اسکول کے طلبہ خطرناک آتشیں ہتھیاروں کا مقابلہ پتھروں سے کریں گے‘ مہلک آتشیں ہتھیاروں پر قانون سازی کرنے میں امریکی انتظامیہ تاحال تذبذب کن ا شکار ہے۔

تفصیلات کےمطابق بلیو ماؤنٹین اسکول کے ڈسٹرکٹ سپرٹنڈنٹ ڈیوڈ ہیل سل نے رواں ماہ ریاستی ماہرینِ قانون کو بتایا ہے کہ اسکولوں پر ہونے والے ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر اسکولوں کے کلاس روم میں چکنے دریائی پتھروں کا انتظام کیا جارہا ہے‘جو کہ کسی بھی مسلح حملے کی صورت میں طلبہ کا آخری ہتھیار ثابت ہوں گے۔

یاد رہے کہ اس وقت پورے امریکا میں گن کلچر اور اس کے منفی اثرات پر بحث جاری ہے اور بہت سے حلقوں کی جانب سے گن پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے‘ ایسے میں کسی حملے کا یہ تدارک کسی حد تک غیر متعلقہ تصور کیا جارہا ہے۔ فلوریڈا کے علاقے پارک لینڈ کے اسکول میں گزشتہ ماہ ہونے والے حملے میں سترہ افراد کی ہلاکت کے بعد امریکا میں گن کلچر کے بارے میں بحث ایک بار پھر زورو شور سے شروع ہوچکی ہے۔

اسکول حملے میں بچ جانے والوں نے گزشتہ دنوں ’ نیشنل مارچ برائے زندگی‘ بھی کیا تھا جو کہ ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرگیا ‘ اور امریکی دارالحکومت میں ہونے والے احتجاج نے گن کلچر کے خلاف عوامی امنگوں کی ترجمانی کی۔ کئی مشہور و معروف شخصیات اور سیاست دانوں نے اس مارچ میں طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے مطالبے پر ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔

دریں اثناء ٹرمپ انتظامیہ تیاری کررہی کہ ان آلات پر پابندی عائد کردے جن کی مدد سے کسی بھی سیمی آٹومیٹک رائفل کو مشین گن میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔‘ اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا کہنا تھا کہ ’’بمپ اسٹاک‘‘ نامی اس آلے پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ کیونکہ اس وقت کم از کم پانچ لاکھ ایسی ڈیوائسز عوام کے پاس ہیں اور ان سے یہ واپس حاصل کرنا مشکل کام ہے۔

دوسری جانب ڈیوڈ ہیل سل نے ریاستی ایجوکیشن کمیٹی کو بتایا ہے کہ کسی بھی ممکنہ گن حملے سے بچاؤ کے لیے ہر کلاس روم میں پانچ گیلن ( لگ بھگ ساڑھے بائیں کلو گرام) چکنے دریائی پتھر رکھیں جائیں گے۔ اگر مسلح حملہ آور کسی کلاس روم میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سنگسار کردیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے اسکولوں میں بہت سے بچے ایسے ہیں جو ان پتھروں کا بہت اچھا استعمال جانتے ہیں اور ان کی مدد سے بجلی کی سی سرعت سے حملہ آور پر حملہ کرسکتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں