The news is by your side.

Advertisement

سری لنکا میں صدارتی انتخابات، مسلم ووٹرز کی بسوں پر فائرنگ

کولمبو: سری لنکا میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے، ملک کے شمال مغربی علاقے میں مسلم ووٹرز کی بسوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق صدارتی انتخابات کے لیے آج سری لنکا میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے، جس میں صدر میتھری پالاسری سینا کے جانشین کا انتخاب کیا جائے گا، ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنے والے مسلمان ووٹرز کی بسوں پر فائرنگ کے واقعے نے سیکورٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سری لنکا میں اقلیتی مسلم ووٹرز سو سے زائد بسوں کے ایک کانوائے کی صورت میں قریبی قصبے میں ووٹ ڈالنے جا رہے تھے۔ مسلح افراد نے سڑک پر ٹائر جلا کر راستہ بند کر دیا تھا۔ کانوائے پہنچنے پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے دو بسیں متاثر ہوئیں، بسوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

تازہ ترین:  موریطانیہ کے ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانیوں نے مدد کی اپیل کر دی

مقامی پولیس کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مسلح حملہ آوروں کو بھی نہیں پکڑا جا سکا ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا کی 70 فی صد آبادی بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے جب کہ مسلمانوں کی تعداد 2 کروڑ ہے جو کل آبادی کا 10 فی صد ہیں۔ تامل بھی سری لنکا کا اقلیتی قبیلہ ہے۔ نئے صدر کے انتخابات کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راجا پکسے قبیلہ ایک بار پھر صدارت کی کرسی پر براجمان ہو سکتا ہے، جنھوں نے تامل ٹائیگرز کو کچل دیا تھا جس کی وجہ سے ان کی حمایت کی جا رہی ہے۔

انتخابات میں سابق وزیر دفاع 70 سالہ گوٹا بایا راجا پکسے اور حکمراں جماعت کے امیدوار 52 سالہ سجیت پریما داسا میدان میں ہیں جب کہ نیشنل پیپلز پاور اتحاد کے قائد انورا کمارا دسانائیکے بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں