گوادرمیں سرمایہ کاری کے لیے لندن میں پرکشش اشتہاری مہم -
The news is by your side.

Advertisement

گوادرمیں سرمایہ کاری کے لیے لندن میں پرکشش اشتہاری مہم

لندن کی مخصوص سرخ رنگ کی سو سے زائد دو منزلہ بسوں پر پاکستان کے نئے ساحلی شہر اور بندرگاہ گوادر میں سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے تشہیری مہم جاری ہے جو ایک ماہ تک جاری رہے گی۔ بسوں پر انگریزی زبان میں گوادر، ابھرتے ہوے پاکستان کا دروازہ‘‘تحریر ہے اور یہ بسیں مرکزی لندن کے علاقوں ویسٹ منسٹر، آکسفورڈ سٹریٹ، پارک لین اور نائٹس برج سمیت لندن کے چار درمیانی زونز میں گردش کریں گی۔’’

تشہیری مہم چلانے والی کمپنی چائنہ پاک انویسٹمنٹ کارپوریشن کے چیف آپریشن افسر سٹیورٹ ریڈ کا کہنا ہے کہ لندن کی معاشی منڈی میں ہر روز پچاس کھرب ڈالر کا سرمایہ گردش کرتا ہے اور ایک ماہ کے دوران گوادر کی ان سرخ بسوں کو ایک کروڑ سے زیادہ بااثر لوگ دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے جو 2030 تک دنیا کی بیسویں بڑی معیشت ہو گی اور گوادر مستقبل میں جنوبی ایشیا کی تجارت میں اہم کردار ادا کرے گا۔

چائنہ پاک انویسٹمنٹ کارپوریشن چین کی چوتھی بڑی تعمیراتی کمپنی ٹاپ انٹرنیشنل انجنئیرنگ کارپوریشن کے ساتھ مل کر گوادر میں ماسٹر کمیونٹی منصوبہ تعمیر کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف چین سے آنے والے پیشہ ور افراد کو رہائش کی سہولیات مہیا کرے گا بلکہ پاکستان اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے بھی پرکشش سرمایہ کاری کا موقع مہیا کرے گا۔ ٹاپ انٹرنیشنل انجنیئرنگ کارپوریشن کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان میں 822 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے جس کے سو فیصد ثمرات پاکستانیوں کو ملیں گے۔

سٹیورٹ ریڈ نے بتایا کہ گوادر کی حفاظت پاک فوج کر رہی ہے اور یہ پاکستان کا محفوظ ترین شہیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی مقامی آبادی سی پیک اور بندرگاہ کی تعمیر سے مستفید ہو رہی ہے اور مقامی لوگوں کو ملازمتوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کی بہترین سہولتیں بھی میسر آ رہی ہیں۔

سی پیک کے تحت زیرتعمیر ساحلی شہر گوادر کی بندرگاہ کا موازنہ دبئی سے کیا جا رہا ہے اور اس منفرد اور پاکستان سے باہر جاری مہنگی ترین اشتہاری مہم کے ذریعے عالمی منڈی میں گوادر کے اندر سرمایہ کاری کی ترغیب دلائی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ لندن کی بسوں پردنیا کی معروف ترین کمپنیاں اور ادارے اشتہارات لگاتے ہیں جن میں نائیک، امازون اورایپل بھی شامل ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئرکریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں