The news is by your side.

Advertisement

قسمت مہربان، گوادر کا ماہی گیر راتوں رات لکھ پتی بن گیا

گوادر: جیونی میں ایک مچھیرے پر قسمت مہربان ہو گئی اور وہ ایک خاص مچھلی پکڑ کر راتوں رات لکھ پتی بن گیا۔

تفصیلات کے مطابق گوادر کے ماہی گیر پر قسمت مہربان ہو گئی، غریب مچھیرے کے جال میں قیمتی سوا مچھلی پھنس کر اسے لکھ پتی بنا گئی، تحصیل جیونی میں یہ 48 کلو وزنی سوا مچھلی 86 لاکھ 40 ہزار میں نیلام ہو گئی۔

پکڑی گئی سوا مچھلی کا وزن اڑتالیس کلو تھا جب کہ فی کلو بولی ایک لاکھ 61 ہزار 500 روپے تھی۔

چند دن قبل بھی جیونی سے ایک سوا مچھلی پکڑی گئی تھی جو 7 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوئی تھی، خیال رہے کہ بلوچستان کے ساحل پر نایاب مچھلیاں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں، اور مقامی ماہی گیر اکثر ایسی نایاب مچھلیوں کا شکار کرتے رہتے ہین، جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمت ہوتی ہے۔

ماہرین آبی حیات کا کہنا ہے کہ سوا نامی مچھلی گرمیوں میں جیونی اور ملحقہ سمندر میں ساحل کے قریب آتی ہیں، جہاں یہ افزائش نسل کے لیے انڈے دیتی ہے، اس مچھلی کی تجارتی اہمیت بہت زیادہ ہے، بعض ایشیائی اور یورپی ممالک میں اس کی بڑی طلب ہے۔

اس مچھلی کا ایک مخصوص حصّہ طبی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک دھاگا بھی تیار کیا جاتا ہے جو آپریشن کے دوران سرجری میں استعمال ہوتا ہے۔

سوّا مچھلی کو انگریزی میں کروکر (Croaker) اور بلوچی میں کر کہا جاتا ہے، مقامی مچھیروں کو کہنا ہے کہ اس مچھلی کے شکار کے دو مہینے ہوتے ہیں اس لیے اس کو پکڑنے کے لیے ماہی گیروں کو بہت سارے جتن کرنے پڑتے ہیں۔

گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بائیولوجسٹ عبدالرحیم بلوچ کے مطابق کروکر کی قدر و قیمت دراصل اس کی ایئر بلیڈر کی وجہ سے ہے، جو طبی استعمال میں آتا ہے اور چین، جاپان اور یورپ میں اس کی مانگ ہے، یہ ایئر بلیڈر انسانی جسم کے اندرونی اعضا میں دورانِ سرجری لگائے جانے والے ٹانکوں بالخصوص دل کے آپریشن میں اسٹچنگ وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں