The news is by your side.

Advertisement

بھولنے کی عادت ہمارے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے

بھولنے کی عادت کسی کے لیے بہت الجھن اور پریشانی پیدا کرسکتی ہے تاہم ماہرین نے اب باتیں بھول جانے والوں کو خوشخبری سنائی ہے۔

حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں علم ہوا کہ بھولنا درحقیقت ہمارے سیکھنے کے عمل کی فعال صورت ہے جو ہمارے دماغ کو مزید اہم معلومت تک رسائی میں مدد دیتا ہے۔

ٹرِینٹی کالج ڈبلن اور یورنیورسٹی آف ٹورنٹو کے ماہرین نے اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بھولی ہوئی باتیں در حقیقت کہیں نہیں گئی ہوتیں، بس ان تک ہماری رسائی نہیں ہوتی۔

ماہرین نے بتایا کہ یادیں مستقل طور پر نیورونز کے سیٹ میں ذخیرہ ہوجاتی ہیں جس کے متعلق ہمارا دماغ فیصلہ کرتا ہے کہ کہاں ہمیں رسائی دینی ہے اور کن غیر متعلقہ چیزوں بلائے طاق رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات اطراف کے نقطہ نظر پر مبنی ہوتے ہیں جو نظریاتی طور پر ہمیں تبدیلی اور بہتر فیصلہ کرنے کے موقع پر لچک دار بناتے ہیں۔

نیورو سائنس دان ڈاکٹر ریان نے کہا کہ یادیں انگرام سیلز نامی نیورونز کے جتھوں میں جا کر ذخیرہ ہوجاتی ہیں اور کامیابی سے دوبارہ یاد تب آتی ہیں جب وہ جتھے دوبارہ فعال ہوتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھولنے کاعمل تب ہوتا ہے جب انگرام سیلز دوبارہ فعال نہیں ہو پاتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں