حج اورعید الاضحیٰ- حضرت ابراہیم ؑ کے گھرانے کی یادگار -
The news is by your side.

Advertisement

حج اورعید الاضحیٰ- حضرت ابراہیم ؑ کے گھرانے کی یادگار

فریضہ حج امتِ مسلمہ کے بنیادی اور انتہائی اہم فرائض میں سے ایک ہے اور اس کی تکمیل عید الاضحیٰ پر ہوتی ہے، حج کی ابتدا سے قربانی تک ہر رکن خلیل اللہ حضرت ابراہم علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے کسی نہ کسی عمل کی پیروی کا نام ہے۔

‘عیدالاضحی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی ایک نہایت مخلصانہ عبادت کی یادگار ہے۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلواة والسلام کے اعمالِ حیات اور وقائع زندگی کو ایک خاص عظمت وشرف اور اہمیت دی گئی ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی دعوت کو ملت ِابراہیمی اور دین حنیفی کے مترادف قرار دیا ہے: {ملة أبیکم إبراہیم} ”یہ ملت تمہارے باپ ابراہیم ہی کی ہے۔” اور دوسری جگہ فرمایا:

”کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے ربّ نے سیدھا راستہ دکھایا ہے کہ وہی ٹھیک دین ہے۔ یعنی ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ کہ وہ ایک ہی خدا کے ہورہے تھے۔”

خانہِ کعبہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام سے آج تک

اور اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کو ‘اُسوۂ حسنہ’ کے طور پرقرآن کریم میں پیش کیا تاکہ ان کے اعمالِ حیات ہمیشہ کیلئے محفوظ رہیں اور اُمت مسلمہ ان کی اقتدا کرتی رہے۔

صفاومرویٰ کی سعی


حضرت اسماعیل علیہ السلام انتہائی محبوب اور چہیتے تھے۔ ابھی دودھ پینے کی ہی عمر تھی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیوی ہاجرہ اور شیر خواربچہ اسماعیل کو حجاز مقدس کی بے آب وگیاہ سرزمین پر لے آئے جہاں پینے کیلئے پانی تک کا نام و نشان نہ تھا ۔ یہاں وہ ان دونوں ماں بیٹے کو چھوڑ کر جانے لگے تو بیوی نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کردیا۔

کچھ ہی عرصہ بعد جب کھا نا پانی ختم ہوگیا اور بچہ پیاس کی شدت سے رونے لگا تو ماں بے باتاب ہوگئی اور اضطراب و بے چینی کے عالم میں صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کی پہاڑی کی طرف دوڑنے لگیں کہ شاید کہیں کوئی چشمہ یا کوئی قافلہ نظر آجائے جس سے پانی طلب کیا جاسکے ۔ اسی دوڑنے کو اللہ نے سعی کا نام دیا اور اسے حاجیوں پر لازم قرار دیا۔

خانہ کعبہ کی تصویر پیش کرتا قرآن کا قدیم نسخہ

زم زم


حضرت ہاجرہ علیہ السلام اسی تگ و دو میں تھیں کہ دیکھا کہ عرب کی تپتی زمین پر جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹا کر گئی تھیں وہاں پیاس کی شدت سے ان کے ایڑیاں رگڑنے پر ایک چشمہ نمودار ہوا، یہ وہی چشمہ زمزم ہے جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا جہاں کو سیراب کررہا ہے اور بیت اللہ کے زائرین کے لیے سب سے اہم تبرک کا درجہ بھی رکھتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ اس پانی میں شفا ہی شفا ہے اور سوائے موت کی سختی کے ہر مرض کا علاج اسی پانی سے ممکن ہے۔

قربانی


کچھ مدت بعد جب اسماعیل چلنے پھرنے لگے اور دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچے تو ابوالنبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا ، انبیاء کا خواب وحی کے حکم میں ہوتا ہے ۔ وہ منشائے الٰہی سمجھ گئے ۔بلا تامل بیٹے کو اللہ کے نام پر قربان کرنے کیلئے فلسطین سے مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے۔ بیٹے کو ذبح کرنا تو کیا اس کا تصور کرنا بھی آسان نہیں لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حکم الٰہی کی تعمیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بیٹا بھی برضا و رغبت تیار ہوگیا اور باپ کو صبر و استقامت کا پیغام سنایا ۔ آنکھوں پر پٹی باندھ کر بیٹے کی گردن پر چھری پھیردی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچا لیا ،ان کے عوض مینڈھا بھیج کرچھری کو حکم دیا کہ اسے ذبح کردیا جائے۔

قرآن میں اللہ سورہ صافات میں اس واقعے کو کچھ یوں بتاتا ہے۔

وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ (107)۔

اور ہم نے اسے ذبح عظیم (عظیم قربانی )سے تبدیل کردیا۔

 

کچھ مورخین کے نزدیک اس کا مطلب دنیا بھر میں ہر سال ہونے والی قربانیاں ہیں ، کچھ کے نزدیک یہ آیت رسول اللہ کے نواسے حضرت حسین ؓ کی شان میں اتری ہے، جو کربلا کے میدان میں قتل کیے گئے تھے۔

شیطان کو کنکریاں مارنا


جب آپؑ بیٹے کو قربانی کرنے کیلئے ا نہیں ساتھ لے چلے تو راستے میں 3مقامات پر شیطان نے آپؑ کو ورغلایا اور حکم الٰہی کی تعمیل سے باز رکھنے کی کوشش کی ۔ان جگہوں پر آپ ؑنے شیطان کو 7،7کنکریاں ماریں۔ اللہ نے اسے دین اسلام کی اہم ترین عبادت حج کا رکن قراردے کر نہ صرف یہ کہ سیدنا ابراہیم ؑکے تذکرہ اور ان واقعات کو باقی رکھا بلکہ اسے باطن کی صفائی ، قلوب کے تزکیہ اور قرب الٰہی کا ذریعہ بنا دیا ۔

بیت اللہ کی تعمیر


ابھی قربانی کے واقعے کو کچھ مدت ہی گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا۔حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام ذوق و شوق سے کعبہ کی دیواریں اٹھاتے اور ساتھ ہی خلوص وعقیدت سے دعا کرتے جاتے تھے کہ اے اللہ !ہماری یہ خدمت قبول فرما اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے سکھا(البقرہ 127) ۔

جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ لوگوں میں اس گھر کی زیارت ( حج کرنے) کا اعلان کردو۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار!اس ویرانے سے باہر آبادیوں تک میری آواز کیسے پہنچے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کے’’ اعلان کرنا تمہارا کام ہے اور اسے لوگوں تک پہنچانا ہمارا کام ہے‘‘۔

چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پہاڑی پر چڑھ کر آواز لگائی اور لوگوں کواللہ کے گھر کی زیارت کا حکم دیا اور اللہ نے نہ صرف دنیا میں اس وقت موجود لوگوں تک یہ اعلان پہنچایا بلکہ عالم اروا ح میں قیامت تک دنیا میں آنے والی روحوں نے بھی یہ اعلان سنا اور جس کی قسمت میں حج کی سعادت مقدر تھی اس نے لبیک کہا۔حج کا تلبیہ’ لبیک اللھم لبیک‘ دراصل اسی ندائے ابراہیمی کا جواب ہے جو دنیا بھر کے صاحبِ استطاعت مسلمان اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہر سال ادا کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں