فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں اسرائیل کی جانب سے تاخیر کے بعد حماس اور اسرائیل میں نیا معاہدہ طے ہو گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل اور حماس غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں آج شام کے اوائل میں باقی ماندہ فلسطینی قیدیوں اور یرغمالیوں کی لاشوں کا تبادلہ کریں گے۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں اسرائیل کی جانب سے تاخیر کا مسئلہ حل کرنے میں ثالثوں کی طرف سے مدد کی گئی، جس کے بعد آج 4 یرغمالیوں کی لاشوں کے بدلے اسرائیل 620 فلسطینیوں کو آزاد کرے گا، مذکورہ یرغمالیوں کی لاشیں بھی معاہدے کے پہلے مرحلے ہی میں حوالے کی جانی تھیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے معاہدہ طے پا گیا ہے، لاشوں کی حوالگی اور فلسطینیوں کی آزادی کے معاملے میں مصر سہولیات فراہم کرے گا، اسرائیل مزید فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی رہا کرے گا۔ چھ سو بیس فلسطینی قیدیوں کو گزشتہ ہفتے رہا کیا جانا تھا، تاہم اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کی رہائی روک دی تھی۔
فلسطین اسرائیل تنازع کا ’دو ریاستی ہی واحد حل ہے‘ برطانیہ اور یورپی یونین
واضح رہے کہ ہفتے کو جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہو رہا ہے۔ امریکا نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے اسرائیل کے مذاکرات میں حصہ لینے کی تصدیق کر دی ہے، مشرقی وسطی کے لیے امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات کے لیے وفد دوحہ بھیجے گا۔