The news is by your side.

Advertisement

اسٹیل ملز سے نکالے جانے والے ملازمین کو کتنے لاکھ روپے دیئے جائیں گے؟

اسلام آباد : وفاقی وزیر حماداظہر نے بتایا کہ حکومت ساڑھے 5سال سے اسٹیل ملز ملازمین کو تنخواہ دے رہی ہے، فارغ ہونے والے ملازمین کو اوسط 23 لاکھ دیے جائیں گے جبکہ بعض کو70لاکھ ملیں گے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، اسٹیل ملز کی نجکاری کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا ، نے اس حوالے سے بتایا کہ پاکستان اسٹیل مل نے1985میں پروڈکشن شروع کی، 2008 سے 2009 میں اسٹیل خسارے میں چلا گیا اور 2015 میں پاکستان اسٹیل کو بند کردیا گیا۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اس کے بعد حکومت ساڑھے 5سال سے ملازمین کو تنخواہ دے رہی ہے، پاکستان اسٹیل مل پر 230ارب کا قرضہ ہے اور 25 کروڑ روپے ماہانہ خرچہ ہے جبکہ ملزکاقرضہ211ارب اور176 ارب کا نقصان ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسٹیل ملزملازمین کو اوسط23 لاکھ دیے جائیں گے جبکہ بعض کو70لاکھ ملیں گے، چاہتےہیں اسٹیل ملزکونجی پارٹنرشپ کے ساتھ چلائیں ، اسٹیل ملز کی قرض ری اسٹرکچرنگ کے بعد نجکاری کی جانب جائیں گے۔

گذشتہ روز بھی وفاقی وزیرحماداظہر نے کہا تھا کہ پاکستان اسٹیل پیپلزپارٹی کےدورمیں منافع سےخسارےمیں گئی اور گزشتہ 5سال سے پاکستان اسٹیل ملزکی پیداوارصفرہے، بنداسٹیل ملزکےملازمین کو35ارب روپےتنخواہوں کی مدمیں ادائیگی کی گئی۔

حماداظہر کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان اسٹیل کو 90ارب کابیل آؤٹ پیکج دیامگرچل نہ سکی، پاکستان اسٹیل کے 9ہزارکے قریب ملازمین فارغ ہوں گے، جس سے حکومت کوتنخواہوں اورسودکی مدمیں70کروڑروپےماہانہ کی بچت ہوگی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں