site
stats
پاکستان

اگرخود لڑتے رہے تو پاکستان کودشمنوں کی ضرورت نہیں ،حمزہ شہباز

لاہور : وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے اور مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا ہےاگرخود لڑتے رہے تو پاکستان کو دشمنوں کی ضرورت نہیں ، سب سیاسی جماعتیں پاکستان پر رحم کریں، دوہزار اٹھارہ میں الیکشن نہ ہوئے تو پھر ملک میں اندھیرے ہونگے۔

تفصیلات کے مطابق ایوان اقبال لاہور میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے کہا کہ بڑے بڑےملک کہہ رہےہیں ہمیں بھی سی پیک کاحصہ بناؤ، آج پاکستان کو کہیں زیادہ متحد ہونے کی ضرورت ہے، اگرخود لڑتے رہے تو پاکستان کو دشمنوں کی ضرورت نہیں۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ ہم انتخابات کی جانب جائیں، عوام جس کومرضی ووٹ دیں وہ حکومت بنائے، دنیا کو دکھا دیں کہ پاکستان ترقی کی راہ پرگامزن ہے، دنیا کودکھادیں پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے نے کہا کہ پاکستان کےعوام فیصلہ کریں گے کس کوووٹ دینا ہے، ووٹ دینے کا موقع آنا چاہئے، سب سیاسی جماعتیں پاکستان پررحم کریں۔


مزید پڑھیں  : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈگڈگی بجانے والوں میں سے ہیں، حمزہ شہباز


رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ دوہزار اٹھارہ میں الیکشن نہ ہوئے تو پھر ملک میں اندھیرے ہونگے، سیاسی جماعتیں بروقت انتخابات کی راہ ہموار کریں، جس کو بھی باہر نکالنا ہے اس کو عوام ووٹ کی طاقت سے باہر نکالیں۔

انہوں نے کہا انہیں فخر ہے کہ ان کے باپ نے اس ملک کی خدمت کی ہے، شہباز شریف کے سینے پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے۔

حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ بھارت میں 39 صوبے ہیں اور وہاں علیحدگی پسند تحریکیں بھی چل رہی ہیں لیکن سب کچھ ہونے کے باوجود وہاں جمہوریت کا تسلسل ہے، ہمیں بھی ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بنانا ہوگی۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو میٹرو کو جنگل بس کہتے تھے اب خود میٹرو بنا رہے ہیں، لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ختم اور روشنیاں بحال ہو رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ والد ہمیشہ کہتے ہیں کہ بیٹے کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں، سیاست کیلئے خدمت کا جذبہ ہونا چاہیئے، بروقت انتخابات یقینی بنائیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top