امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے خلاف ’’ہینڈز آف ‘‘احتجاجی تحریک کا آغاز بھرپور طریقے سے کردیا گیا، دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مظاہرے جاری ہیں سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کی مخالفت میں امریکہ اور یورپ میں ’ہینڈ آف‘ مظاہرے جاری ہیں، احتجاجی مظاہرے یورپ کے دیگر شہروں میں بھی پھیل گئے۔
سینکڑوں مظاہرین جن میں بیرونِ ملک مقیم امریکی بھی شامل تھے نے ٹرمپ ٹیرف کی مذمت کرتے ہوئے بڑے یورپی شہروں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
برطانیہ، جرمنی اور پرتگال میں شہریوں کے مظاہروں کے بعد واشنگٹن سمیت امریکا بھر میں بھی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا،احتجاج میں شہری حقوق کی تنظیمیں، مزدور یونینز اور دیگر اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہفتہ کے روز فرینکفرٹ میں "ہینڈز آف” نامی احتجاجی مظاہرے کا انعقاد ڈیموکریٹس ابروڈ نے کیا تھا۔
اس کے علاوہ برلن میں مظاہرین نے ٹرمپ اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹیسلا شو روم اور امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔
اس کے علاوہ کچھ مظاہرین کے پاس ایسے پلے کارڈز بھی تھے جن پر درج تھا کہ امریکہ میں انتشار کا خاتمہ کرو۔
پیرس میں بھی امریکی مظاہرین نے صدر ٹرمپ اور ان کی موجوسہ پالیسی کے خلاف احتجاج کیا۔ لندن میں ہفتہ کے روز مظاہرین ٹریفلگر اسکوائر میں جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اٹھائے احتجاج کیا۔