The news is by your side.

Advertisement

کلائمٹ چینج کے باعث موسموں کی شدت میں اضافے کا خطرہ

مراکش: ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق عالمی کانفرنس کوپ 22 مراکش میں جاری ہے۔ کانفرنس میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ موسمیاتی تغیرات میں مزید شدت آئے گی اور یہ دنیا کے تمام حصوں کو متاثر کرے گی۔

کانفرنس میں پیش کی جانے والی متعدد رپورٹس میں سے ایک کے مطابق سنہ 2011 سے سنہ 2015 کے 5 سال دنیا کی تاریخ کے گرم ترین سال تھے۔ ماہرین نے واضح طور پر بتایا کہ موسموں کی شدت میں اضافے کے ذمہ دار خود انسان ہیں اور اس شدت میں مزید اضافہ ہوگا جو معیشت سمیت تمام شعبوں پر خطرناک اثرات مرتب کریں گے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج سے مطابقت کیسے ممکن ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسموں میں یہ تبدیلی یا کلائمٹ چینج دنیا بھر میں ہیٹ ویو، قحط، شدید بارشوں اور خطرناک سیلابوں کی شرح میں اضافہ کردے گی۔

ماہرین نے بتایا کہ سنہ 1996 سے 2015 تک دنیا کے مختلف حصوں میں 11 ہزار شدید ہیٹ ویوز آئیں جن کے باعث 5 لاکھ کے قریب افراد ہلاک جبکہ معیشتوں کو مجموعی طور پر 3 کھرب ڈالرز کا نقصان پہنچا۔

ان خطرناک ہیٹ ویوز میں پاکستان اور بھارت میں 2015 میں آنے والی ہیٹ ویو کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے دنیا کے تمام سمندروں کی سطح میں اضافہ ہوگا اور اس سے دنیا کے 90 فیصد ساحلی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ ماہرین کے مطابق سنہ 2040 تک ساحلی علاقوں کے ساتھ موجود سمندر کی سطح میں 7 انچ سے زائد اضافہ ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: گلوبل وارمنگ سے عالمی معیشتوں کو 2 کھرب پاؤنڈز نقصان کا خدشہ

ماہرین نے واضح کیا کہ ان خطرات پر کسی حد تک قابو پانے کے لیے گزشتہ برس پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی معاہدے پر ہنگامی بنیادوں پر عملدر آمد ضروری ہے۔

اس معاہدے پر 195 ممالک نے دستخط کر کے اس بات کا عزم کیا تھا کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کو محدود کریں گے جن کے باعث زہریلی گیسوں کا اخراج دنیا بھر کے موسموں میں تبدیلی لارہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافہ کر رہا ہے۔

رواں برس ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق اس کانفرنس کا مرکزی ایجنڈا اس معاہدے پر عملدر آمد کے لیے اقدامات وضع کرنا ہے۔

:ٹرمپ کی ماحول دشمن پالیسیاں باعث تشویش

کانفرنس کے دوران ہی امریکا میں صدارتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوگیا اور ڈونلد ٹرمپ امریکا کے نئے صدر منتخب ہوگئے جس نے کانفرنس کے شرکا کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی پیرس معاہدے سے دستبردار ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے ماحول دشمن اقدامات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایک ملک یہ معاہدہ ختم تو نہیں کر سکتا، لیکن اگر امریکا اس معاہدے سے دستبردار ہوجاتا ہے اور صدر اوباما کے داخلی سطح پر کیے گئے اقدامات کو روک دیا جاتا ہے تو دنیا بھر میں کلائمٹ چینج کے سدباب کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

trump-2-2

صرف یہی نہیں ٹرمپ کے انتخابی منشور میں ماحول دشمن اقدامات بھرے پڑے ہیں جس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ امریکا، جو پہلے ہی کاربن کا اخراج کرنے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے، مزید زہریلی گیسوں کا اخراج کرے گا جس کے بعد دنیا بھر میں ماحول کی بہتری کے لیے جاری اقدامات خطرے کا شکار ہوگئے ہیں۔

ٹرمپ کے ان اقدامات میں امریکا میں کوئلے کی صنعت کی بحالی اور صدر اوباما کے شروع کیے گئے تمام ماحول دوست منصوبوں کو ختم کرنا سرفہرست ہے۔

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

دوسری جانب پاکستان اس منصوبے پر عملدر آمد کے حوالے سے نہایت سنجیدہ ہے اور چند روز قبل ہی پاکستان کی جانب سے پیرس معاہدے کی توثیق کی جاچکی ہے۔

پاکستان اس معاہدے کی توثیق کر کے اب اس بات کا پابند ہوچکا ہے کہ وہ داخلی سطح پر کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گا، اور خارجی سطح پر ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا جو دنیا کو ماحولیاتی نقصانات سے بچانے کے لیے کی جارہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں