The news is by your side.

Advertisement

پشاور: طالبات اور اساتذہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ثابت، پرنسپل کو 105 سال قید

پرنسپل عطا اللہ پر الزام تھا کہ وہ بچوں اور اساتذہ کی ویڈیوز بنا کر اُن کا جنسی استحصال کرتا ہے

پشاور: خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت کی سیشن کورٹ نے نجی اسکول کے پرنسپل عطا اللہ پر خواتین اور طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر 105 سال قید کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کی سیشن عدالت میں نجی اسکول کے پرنسپل پر عائد الزامات کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے اُسے جرم ثابت ہونے کے بعد 105 برس قید اور 10 لاکھ چالیس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے سزا سنائی۔

پرنسپل پر الزام تھا کہ وہ اسکول کی طالبات اور  طالب علموں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اور اُن کی قابل اعتراض ویڈیوز بنا کر بعد میں انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بھی بناتا ہے۔

مزید پڑھیں: اوکاڑہ : طلباء وطالبات کی نازیبا ویڈیوزبنا نے والا اسکول پرنسپل گرفتار

عطا اللہ کو گزشتہ برس جولائی میں اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا کہ جب ایک طالب علم نے تھانہ حیات آباد میں درخواست جمع کرائی تھی۔

طالب علم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ پرنسپل طالبات، اساتذہ اور دیگر خواتین کی اسکول میں لگے کیمروں سے ویڈیوز بنا کر انہیں ہراساں کرتا ہے اور اُن کا جنسی استحصال بھی کرتا ہے۔

پولیس کو دورانِ تفتیش طالب علم نے بتایا کہ تھا کہ مذکورہ پرنسپل اسکول سے باہر  بچوں کو لینے آنے والی آنے والی خواتین کو بھی اپنے جعل میں پھنسا کر اُن کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔

طالب علم نے پولیس کو یہ بھی بتایا تھا کہ پرنسپل نے کچھ ویڈیوز اور تصاویر دکھا کر مجھے بھی گھناؤنے عمل میں شامل ہونے کی پیش کش کی، اُس نے بیت الخلا میں بھی خفیہ کیمرے نصب کیے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سرگودھا،اسکول ٹیچر طالب علم کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار

پولیس نے طالب علم کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے اسکول میں چھاپہ مارا تو پرنسپل نے اس دوران اپنے فون چھپانے کی کوشش بھی کی جن میں مبینہ طور پر نازیبا ویڈیوز موجود تھیں۔

حیات آباد تھانے کی پولیس نے چھاپہ مار کر میموری کارڈ، یو ایس بی اور کمپیوٹر سے ڈیٹا حاصل کرلیا تھا جس مین یہ بات سامنے آئی کہ ہیڈ ماسٹر کی طالب علموں کے ساتھ کئی قابل اعتراض ویڈیوز موجود ہیں۔

پشاور کی سیشن عدالت نے حراست میں لیے جانے والے پرنسپل کو مکمل صفائی کا موقع دیا البتہ اُس نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد خواتین کے استحصال، بچوں کے ساتھ زیادتی اور پاکستان پینل کوڈ سمیت چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2010 کے تحت اُسے سزا سنائی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں