The news is by your side.

مرزا غالب: خدا نے انھیں دونوں جہان دے دیے تھے

آپ مرزا کے مختصر سوانح حیات سنیے، بخوفِ طوالت صرف چند واقعات کے بیان پر ہی اکتفا کروں گا جو عام محققوں اور تذکرہ نویسوں کی نظر سے اوجھل رہے۔

مرزا کی زندگی اگرچہ عسرت میں گزری تھی لیکن اس کے لیے اللہ میاں ذمہ دار نہ تھے، خود مرزا کو اقرار ہے کہ خدا نے انھیں دونوں جہان دے دیے تھے۔ سنیے،
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ دونوں جہاں گئے کہاں؟ جواب مرزا کے اس شعر میں موجود ہے:
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

پس دونوں جہان بھی گھر کے ساتھ ہی لٹا دیے ہوں گے۔

غالب کا گھر نہ صرف ویران تھا بلکہ اس میں ویرانی سی ویرانی تھی۔ چنانچہ:
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

لیکن یہ گھر وسیع نہ تھا اور مرزا کو ورزش کے لیے یا شاید گیند بلاّ کھیلنے کے لیے بہت کھلی جگہ کی ضرورت تھی، اس لیے جنگل میں جارہے تھے، فرماتے ہیں:
کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں

جنگلوں کی زندگی مرزا کو بہت عزیز تھی اور انھوں نے اپنے گھر کو طاقِ نسیاں پر رکھ کر قفل لگا دیا تھا۔ مرزا کے پاؤں میں چکر تھا، وہ کسی جگہ بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ جب چلتے چلتے پاؤں میں چھالے پڑ جاتے تو اس وقت انھیں جھاڑ جھنکاڑ کی تلاش ہوتی تھی۔ کانٹوں کو دیکھ کر آپ کا دل مسرت و شادمانی کے جھولے میں جھولنے لگتا تھا۔ کہتے ہیں:
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پُرخار دیکھ کر

مرزا بڑے سادہ لوح اور صاف دل انسان تھے۔ اکثر ایسی حرکتیں کر بیٹھتے جن کا نتیجہ ان کے حق میں بہت برا ہوتا تھا۔ چنانچہ ایک دن محبوب کی گلی میں بیٹھے بیٹھے کسی ذرا سی غلطی پر پاسبان سے اپنی چندیا گنجی کرا لی، اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے:
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے

ایک مرتبہ خود محبوب کے ہاتھوں سے بھی پٹے مگر چوں کہ قصور اپنا تھا اس لیے نہایت ایمان داری سے اعتراف بھی کرلیا کہ
دھول دھپّا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

اس سادہ لوحی کی بدولت ایک دن محبوب کی حد سے زیادہ تعریف کر کے ایک راز دار کو رقیب بنا لیا، ثبوت ملاحظہ ہو:
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیان اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو راز داں اپنا

لیکن دیوانہ بکار خویش ہشیار کبھی کبھی رقیب کو جل بھی دے جاتے:
تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا

مرزا نجوم اور جوتش کے نہ صرف قائل تھے بلکہ محبت کے معاملوں میں بھی جوتشیوں سے پوچھ گچھ کرتے رہتے تھے، اسی لیے کہا ہے:
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

غالب کا دل عام لوگوں کی طرح خون کا قطرہ یا گوشت کا لوتھڑا نہ تھا بلکہ آفت کا ایک بڑا سا ٹکڑا تھا۔ اس میں کئی جگہ ٹیڑھ میڑھ تھے اور وہ ہروقت شوروغل مچائے رکھتا تھا۔ مرزا بھی اس کی آوارگی کے ہمیشہ شاکی رہتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے:
میں اور اک آفت کا ٹکڑا وہ دلِ وحشی کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا

مرزا کبھی کبھی اپنے اس دل سے کام بھی لے لیا کرتے تھے۔ مثلاً ایک دفعہ محبوب کی تمنا کہیں آپ کے ہتھے چڑھ گئی۔ آپ نے جی بھر کے انتقام لیے اور دل کے شور و غل کے ذریعے اس بے چاری کے کانوں کے پردے پھٹے جاتے تھے۔ رات دن دل میں چکر کاٹتی مگر باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ آخر ایک دن خود اس پر ترس کھا کر محبوب سے درخواست کی ہے:
ہے دلِ شوریدۂ غالب طلسمِ پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے

لیکن خدا کے فضل و کرم سے مرزا کو جلد ہی اس سے رہائی مل گئی۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے سوزِ نہاں کا دورہ ہوا اور سارے کا سارا دل بے محابا جل گیا۔ اس حادثۂ فاجعہ کا ذکر مرزا نے یوں کیا ہے:
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا

بد قسمتی سے مرزا کے ناخن بہت جلد بڑھتے تھے۔ چنانچہ دل کا زخم ابھی بھرنے بھی نہ پاتا تھاکہ ناخنوں کے کھرپے پھر تیز ہوجایا کرتے تھے، فرماتے ہیں:
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا

(ہری اختر چند کی شگفتہ بیانی، مضمون غالب اپنے کلام کے آئینے میں سے مقتبس)

Comments

یہ بھی پڑھیں