The news is by your side.

Advertisement

دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی: مشترکہ پریس کانفرنس

وزیر اعظم عمران خان اور صدر روحانی کے درمیان باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر اتفاق

تہران: ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات دیرینہ، ثقافتی اور مذہبی ہیں، وزیر اعظم پاکستان اور وفد کی آمد کے مشکور ہیں۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ملاقات میں پاک ایران تعلقات میں مزید وسعت پر تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ عرصے سے سرحدوں پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے سیکیورٹی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا، آئل اور گیس سے متعلق پاکستان کی ضروریات پوری کریں گے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کو بجلی فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے، دونوں ممالک کے درمیان کمرشل سرگرمیوں کا فروغ چاہتے ہیں۔ بارڈر سیکیورٹی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ خطے کی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک میں تعلقات بڑھانا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور بھی پر تبادلہ خیال کیا گیا، گولان کی پہاڑیوں اور پاسداران انقلاب گارڈز پر پابندی پر بھی گفتگو ہوئی۔ چاہ بہار اور گوادر کو لنک کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک امن اور استحکام کا عزم رکھتے ہیں۔ تہران، استنبول اور اسلام آباد ریلوے لائن اور پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان بہترین تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔

حسن روحانی نے مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کے دورے کی دعوت پر مشکور ہیں، ایران میں پر تپاک استقبال پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایران کا دورہ زمانہ طالب علمی میں کیا تھا، نئے پاکستان میں کمزور طبقے کو اوپر لانا چاہتے ہیں۔ ایران میں برابری کا معاشرہ زیادہ نظر آیا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں ایران کے دورے میں امیر غریب کا فرق تھا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے دونوں ممالک میں دوریاں پیدا ہوئیں، دونوں ممالک کے درمیان ان فاصلوں کو ختم ہونا چاہیئے۔ پاکستانی عوام اور فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑی۔ نیٹو اور بھرپور فوجی طاقت کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہ ہوسکا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی کے خلاف بھی پاکستانی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے، پاکستانی سرزمین سے متعلق فیصلہ مشترکہ اور ہمارے مفاد میں ہے۔ محسوس کیا کہ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک میں فاصلے بڑھا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے بلوچستان میں ہمارے اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ پاکستانی اور ایرانی سیکیورٹی چیف آپس میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں اعتماد سازی پر بات چیت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرزمین سے ایران کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ چاہتے ہیں ایرانی سرزمین سے بھی پاکستان کو نقصان نہ ہو۔ چار دہائیوں سے افغان جنگ نے پاکستان اور ایران کو متاثر کیا۔ ایران کا دورہ کرنے کا مقصد دوریاں اور فاصلے ختم کرنا ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان اور ایران کے مفاد میں ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا، پاکستان نے کسی بھی ملک کے مقابلے میں دہشت گردی کا زیادہ سامنا کیا۔ انصاف کے بغیر کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ غیر قانونی ہے، اسرائیل کا یروشلم کا اعلان عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے زور پر کشمیریوں کو دبایا جا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو ہمارا خطہ ترقی کرے گا، فلسطینیوں کے ساتھ مظالم ہو رہے ہیں۔ بھارتی فوج کشمیریوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر تشدد سے نہیں مذاکرات سے حل ہوگا، اچھے تعلقات اور تجارت بڑھنے سے دونوں ممالک ترقی کریں گے، ایرانی صدر سے تجارت اور دیگر شعبوں کے فروغ پر بات کی گئی۔ ایران سے تجارت محدود ہے جسے بڑھانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز دو روزہ دورے پر ایران پہنچے تھے۔ وزیر اعظم نے مشہد میں حضرت امام رضا کے مزار پر حاضری دی اور خراسان کے گورنر سے بھی ملاقات کی تھی۔

ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر گفتگو کی گئی اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

آج صبح وزیر اعظم عمران خان سعد آباد پیلس پہنچے جہاں ایرانی صدر حسن روحانی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، عمران خان کی آمد پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش گیا گیا۔

صدارتی محل میں وزیر اعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کی ملاقات بھی ہوئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں