ڈائٹ مشروبات بہتر ہیں: اس غلط فہمی میں نہ رہیں -
The news is by your side.

Advertisement

ڈائٹ مشروبات بہتر ہیں: اس غلط فہمی میں نہ رہیں

سافٹ ڈرنکس صحت کے لیے نقصان دہ مشروبات ہیں جو موٹاپے سمیت بے شمار امراض کا سبب بنتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین انہیں روزانہ یا بہت زیادہ پینے سے منع کرتے ہیں۔

سافٹ ڈرنک کے شوقین شوگر کا شکار افراد ڈائٹ ڈرنک استعمال کرتے ہیں۔

بظاہر ڈائٹ مشروبات میں عام مشروبات کے مقابلے میں کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں موجود مصنوعی مٹھاس میٹھے کی طلب کو بھی پورا کرتی ہے، لیکن درحقیقت یہ جسم کے لیے عام ڈرنکس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں۔

دراصل ڈائٹ مشروبات میں شامل مٹھاس عام میٹھے کی نسبت زیادہ میٹھی ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میٹھا شوگر کا شکار افراد کو بعین وہی نقصانات پہنچاتا ہے جو قدرتی میٹھا پہنچا سکتا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں ڈائٹ مشروبات ہمیں کیا کیا نقصانات پہنچاتے ہیں۔

وزن میں اضافہ

یونیورسٹی آف ٹیکسس میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق یوں تو ڈائٹ سوڈا سے وزن کم ہونے یا نہ بڑھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت ان کے پینے سے وزن بڑھنے کا امکان 70 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

ذیابیطس کا خطرہ

ڈائٹ مشروبات میں شامل نقصان دہ مصنوعی مٹھاس ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔

غیر غذائیت بخش

مصنوعی مٹھاس میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی اور یہ جسم کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔

دانتوں کے لیے نقصان دہ

ڈائٹ مشروبات کا باقاعدہ استعمال آپ کے دانتوں کو نقصان پہنچا کر ان کی خرابی اور آپ کی مسکراہٹ کو بدنما کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈپریشن کی وجہ

ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو دن میں 4 کپ سے زیادہ ڈائٹ مشروبات کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ 30 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

دل کے امراض میں اضافہ

ڈائٹ مشروبات دل کے دورے اور فالج کے خطرے میں بھی 43 فیصد اضافہ کر دیتے ہیں۔

ہڈیوں کے لیے نقصان دہ

امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق مصنوعی مٹھاس کی آمیزش والے مشروبات ہڈیوں کو کمزور اور بھربھرا بنا دیتے ہیں۔

سر درد کا سبب

امریکی ماہرین طب کے مطابق ڈائٹ مشروبات سر درد کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ان کے پاس آنے والے شدید سر درد کا شکار افراد باقاعدگی سے ڈائٹ مشروبات استعمال کرتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں