The news is by your side.

Advertisement

دنیا کا بے وقوف انسان کون؟

خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں ایک دانا و حکیم بہلول کے نام سے مشہور تھے۔ اگرچہ ان کے حالاتِ زندگی اور ان سے منسوب روایات اور حکایات کی اسناد کم ہی دست یاب ہیں، مگر ہر دور میں اصحابِ علم و فضل کے یہاں ان کا تذکرہ ضرور ملتا ہے۔

انھیں غیر معمولی ذہین، دانش مند اور طباع شخص کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں وہ ایک نیک صفت انسان اور اپنے دور کے بڑے دانا تھے اور ہارون الرشید بھی ان سے عقیدت رکھتا تھا۔

ایک روز ہارون الرشید نے ملاقات کے دوران اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی چھڑی حضرت بہلول کو دی اور کہا کہ یہ چھڑی امانت کے طور پر دے رہا ہوں، یہ اس شخص کو دے دیجیے گا جسے آپ خود سے زیادہ بے وقوف پائیں۔ بہلول نے وہ چھڑی رکھ لی۔ کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کی بہلول سے کافی بے تکلفی تھی اور خلیفہ نے انھیں یہ چھڑی دے کر گویا یہ کہنا چاہا تھاکہ دنیا میں بہلول سے زیادہ بے وقوف انسان کوئی نہیں ہے۔

کئی سال بیت گئے۔ ہارون الرشید کے سخت بیمار ہونے کی اطلاع ملی تو بہلول عیادت کو پہنچے اور پوچھا: امیر المومنین کیا حال ہے؟
ہارون الرشید نے کہا: کیا حال سنائوں، ایک لمبا سفر درپیش ہے۔ بہلول نے کہا اچھا تو اس سفر کی کیا تیاری کی؟ وہاں پر آپ نے کتنے لشکر بھیجے ہیں، کتنے خیمے اور دیگر آرائش و اسباب کے کیسے انتظامات کیے ہیں؟
ہارون الرشید نے کہا: بہلول کیسی عجیب بات کرتے ہو، وہ سفر ایسا ہے کہ اس میں کوئی خیمہ نہیں جاتا، کوئی لشکر ساتھ نہیں جاتا۔

بہلول نے مزید پوچھا: اچھا جناب واپس کب آئیں گے؟ ہارون الرشید نے الجھتے ہوئے کہا کہ تم نے کیسی باتیں شروع کر دی ہیں، وہ سفر آخرت کا سفر ہے، اس سفر پر جانے کے بعد کوئی واپس نہیں آتا۔

اب بہلول دانا نے کہا: امیر المؤمنین! پھر تو ایک امانت میرے پاس آپ کی بہت مدت سے رکھی ہوئی ہے جو آپ نے یہ کہہ کر دی تھی کہ اپنے سے زیادہ بے وقوف آدمی کو دے دینا، آج مجھے اس چھڑی کا مستحق آپ سے زیادہ کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ جب آپ چھوٹا سا بھی سفر کرتے اور کہیں جانے کے لیے نکلتے تو خوب تیاری کی جاتی تھی۔ لشکر اور دوسرے اسباب ساتھ ہوتے تھے، لیکن اب جب یہ لمبا سفر درپیش ہے تو اس کی کوئی تیاری ہی نہیں ہے۔

مجھے اپنے سے زیادہ بے وقوف صرف آپ ہی نظر آتے ہیں۔ یہ چھڑی آپ کو مبارک ہو۔ حضرت بہلول کی یہ حکمت بھری بات سن کر خلیفہ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور تذکروں میں لکھا ہے کہ انھوں نے بہلول ایک مدبر و دانا تسلیم کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں