ہندوستان کی سرزمین اولیا اللہ اور صوفیائے کرام کے روشن و پاکیزہ کردار اور نیکی و محبت پر مبنی تعلیمات کی وجہ سے ہمیشہ جگماتی رہی ہے۔ وہ صوفیا جن کے عمل اور فکر کی روشنی نے ایک جہان کو متاثر کیا ان میں ایک محبوب الہیٰ نظام الدین بھی ہیں جن کی تعلیمات کا مرکز و محور محبت اور خیر تھا۔ یہ لطف و کرم کسی ایک طبقے اور مذہب کے لیے نہیں بلکہ ہر ایک کے لیے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والوں میں ہر مذہب اور ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل تھے۔ خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے دہلی میں واقع مزار پر آج بھی مسلمان ہی نہیں ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ ذوق و شوق سے آتے ہیں اور جذب و کیف کے عالم میں سرشار ہو کر لوٹتے ہیں۔
خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی ولادت شہر بدایوں میں 27 صفر 636 ہجری (1238ء) میں ہوئی جنھیں عقیدت مند اور سلاسلِ اولیاء میں محبوبِ الٰہیؒ، سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء، تاج المقربین کے القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت صاحب کا سنہ وفات 3 اپریل 1325ء ہے۔ آپ سلسلۂ چشتیہ کے معروف صوفی بزرگ ہیں اور اصل نام سید محمد نظام الدین، والد کا نام سید احمد بخاری ہے۔ آپ ؒ نجیب الطرفین سادات میں سے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے دادا سید علی بخاری اور ان کے چچا زاد بھائی حضرت سید عرب اہل وعیال کے ہمراہ بخارا سے ہجرت کر کے بدایوں میں آباد ہوئے تھے۔ یہ دونوں بزرگ اپنے وقت کے بڑے متفقی اور پرہیز گار تھے اور ان کا شمار معزز ہستیوں میں ہوتا تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی ؒ بمشکل پانچ برس کے ہوئے کہ والد کا انتقال ہوگیا، لیکن والدہ حضرت بی بی زلیخا نے محنت اور کام کرکے اپنے یتیم بچے کی عمدہ پرورش کی۔ یہ آمدنی اتنی قلیل ہوتی کہ معمولی غذا کے سوا کچھ ہاتھ نہ آتا۔ تنگ دستی کے ساتھ وقت گزرتا رہا اور اللہ کا فضل و کرم تھا کہ آپ نے بہت جلد قرآن حفظ کرلیا۔ اس کے بعد آپ نے مولانا علاءالدین اصولی ؒ کے درس میں شرکت کا سلسلہ شروع کیا۔ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد فقۂ حنفی کی مشہور کتاب "قدوری” ختم کی۔ مولانا علاء الدین اصولی ؒنے اپنے شاگرد کے سر پر دستارِ فضیلت باندھی۔ دستار بندی میں اپنے وقت کے ایک ولی اور دیگر بزرگ شریک تھے جن کی دعاؤں کے ساتھ حضرت نظام الدین اولیاء علم اور معرفت کے نئے سفر پر نکلے۔
دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کے قرب میں ہی حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒکے بھائی حضرت شیخ نجیب الدین متوکل ؒکی رہائش گاہ تھی۔ آپ اکثر حضرت شیخ نجیب الدین متوکل ؒ سے ملاقات فرماتے تھے۔ حضرت شیخ نجیب الدین متوکلؒ کی زبانی حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒکی فضیلت و مرتبہ کے بارے میں پتا چلتا رہتا تھا اور دل میں ان کی عقیدت راسخ ہوگئی اور خواہش غلبہ پانے لگی کہ حضرت بابا فرید سے ملاقات کی جائے۔ چنانچہ حضرت نظام الدین اولیاء نے پاک پتن کا قصد کیا اور دربار عالیہ میں حاضر ہوگئے۔ حضرت نظام الدین اولیاؒء نے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے دست مبارک پر بیعت کی اور بارگاہ سے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔ ایک مدت کے بعد نظام الدین اولیاءؒ خدمت گزاری اور طاعت شعاری سے مرتبۂ کمال کو پہنچے تو بابا فرید الدین گنج شکر ؒ نے آپ کو خلق خدا کی ہدایت و تکمیل کی اجازت دے کر 659 ہجری کو دہلی جاکر توحید اور ہدایت کا کام کرنے کا حکم دیا۔ تب وہ دہلی آگئے۔ آپ علوم القرآن پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ جس طرح اسرار طریقت و حقیقت میں مکمل تھے، ویسے ہی علوم فقہ و حدیث و تفسیر و صرف و نحو، منطق، معانی، ادب میں فاضل تھے۔
حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو دہلی میں بہت مقبولیت ملی۔ عام و خاص سب لوگ ان کی طرف رجوع کرنے لگے۔ اور ایک جہاں تھا جو آپ کی صحبت میں نیکی اور خیر کی طرف آنے لگا۔ ان کا خود کا حال یہ تھا کہ تمام اوقات ریاضت اور مجاہدہ میں گزارتے اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کمال جذب و فیض عطا فرمایا۔ وہ حلیم و بردبار، حسن سلوک کے پیکر اور تارک دنیا تھے لیکن خلق خدا کی مدد کو ہمیشہ تیار رہے۔
مشہور ہے کہ وصال سے قبل حضرت محبوب الٰہیؒ نے شیخ سید نصیر الدین روشن چراغ دہلوی ؒ کو وہ تبرکات جو حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکرؒ سے ان تک پہنچے تھے، سونپ دیے۔ ان کو دہلی میں رہ کر رشد و ہدایت عام کرنے کی تلقین کی اور لگ بھگ 94 برس دنیا میں گزار کر پردہ کرلیا۔ آپ کے مزار پر آج بھی دہلی میں لاکھوں عقیدت مند فاتحہ خوانی کے لیے آتے ہیں۔
نظام الدین اولیاؒ کا ذکر آئے تو ان کے خاص مرید امیر خسرو کا ذکر بھی آتا ہے۔ وہ خسرو جو اقوامِ عالم میں ایک شاعر، موسیقار اور عالم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جن کو لوگ طوطیٔ ہند کے نام سے پکارتے ہیں اور شاعری کی مختلف اصناف میں اپنا مقام پیدا کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب حضرت نظام الدینؒ پاکپتن سے دہلی تشریف لائے تو ان کی عمر صرف بیس برس تھی۔ اس عمر میں فرید گنج شکرؒ سے خلافت کی سند حاصل کرکے وہ یہاں آئے تو امیر خسرو کے گھر میں بھی ان کا نام سنا گیا اور پھر خسرو ان کے دربار میں پہنچے اور حضرت سے بیعت کی درخواست کی۔ وہ بیعت عشق کے اٹوٹ رشتے میں ڈھل گئی اور پھر حضرت نظام الدینؒ کے وصال کے چھ ماہ بعد امیر خسرو نے بھی داعیٔ اجل کو لبیک کہہ دیا۔ خسرو نے اپنے مرشد کی شان میں کئی منقبتیں کہی ہیں اور ان کی قبر بھی حضرت صاحب کے مزار سے کچھ فاصلے پر ہے۔