The news is by your side.

Advertisement

انسانی سر کے ٹرانسپلانٹ کا پہلا آپریشن رواں سال ممکن

اٹلی سے تعلق رکھنے والے نیورو سرجن ڈاکڑ سرجیو کیناورو نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال وہ دنیا کے پہلے انسانی سر کے ٹرانسپلانٹ کو عملی جامہ پہنائیں گے‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا ٹرانسپلانٹ ایک چینی باشندے کا ہوگا۔

نیورو سرجن ڈاکڑ سرجیو کیناورو نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا کے پہلے سر کے ٹرانسپلانٹ کو عملی جامہ پہنائیں گے‘ اس سرجری میں ایک زندہ شخص کا سر ایک عطیہ شدہ مردہ جسم سے جوڑا جائے گا۔

موت کے بعد بھی دماغ کام کرتا رہتا ہے

دوسری جانب ڈاکٹر سرجیو کے ہم عصر سرجنوں کہنا ہے کہ یہ محض ایک خیالی منصوبہ ہے اور اس کا مقصد ساری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

head-post-1

تمام تر مخالفت کے باوجود ڈاکٹر سرجیو اپنے موقف پر قائم ہیں کہ سائنس اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس خیال کو عملی جامہ پہنایا جاسکے، ان کا کہنا ہے کہ ایک نہ ایک دن تو ہمیں یہ کام کرنا ہی ہے تو کیوں نہ اسے ابھی انجام دے لیا جائے۔

نیورو سرجن کا کہنا ہے کہ دنیا کا پہلا سر کا ٹرانسپلانٹ چینی باشندے کا ہوگا اورممکنہ طور پر وہ یہ آپریشن اس سال کرسمس کے قریب کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہمیں محض دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک یہ کام کرنے کی اجازت اور دوئم اس کام کو انجام دینے کے لیے فنڈنگ‘۔ واضح رہے کہ یہ آپریشن ٹرانسپلانٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین آپریشن ثابت ہوگا۔

جنت


ڈاکٹر سرجیو نے اس منصوبے کا نام سرکے انضمام کا منصوبہhead anastomosis venture رکھا ہے جبکہ اس کا کوڈ نام جنت Heaven رکھا گیا ہے۔

چین کے ہربن یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ژیاؤ پنگ رین کا کہنا ہے کہ وہ جنوری میں ایک بندر کا سر دوسرے بندر کے سر پر لگا چکے ہیں تاہم اخلاقی وجوہا ت کی بنا پر 20 گھنٹے بعد اسے آسان موت دے دی گئی تھی۔

تاہم ڈاکٹر سرجیو کے ہم عصر اس خیال سے قطعی متفق نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا نتیجہ صرف اور صرف مریض کی موت کی صورت میں نکلے گا۔

head-post-2

دوسری جانب کچھ ڈاکٹرز اسے موت سے زیادہ ہولناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو دماغ نئے جسم کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردے گا اوراس صورت میں مریض کو ایسے شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن کا آج تک کبھی تجربہ نہیں کیا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ڈاکٹر سرجیو اپنے اس منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈنگ اور متعلقہ اجازت نامے حاصل کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں یا پھر یہ محض ایک پبلسٹی اسٹنٹ ثابت ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں