The news is by your side.

Advertisement

آپ کو یومیہ کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے؟

جب بھی تن درست و توانا رہنے، تھکاوٹ، مٹاپے کی بات ہوتی ہے تو “کیلوریز” کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ ہماری سماعت کے لیے‌ ہرگز نیا نہیں‌ ہے، لیکن ممکن ہے کہ ہم میں‌ سے اکثر کے ذہن میں اسے سن کر کوئی خاص خاکہ اور تصویر نہ بنتی ہو۔ چلیے آپ کی یہ مشکل ہم آسان کیے دیتے ہیں۔

سادہ لفظوں میں‌ بیان کریں تو حرارت کی اکائی کو حرارہ (کیلوری) کہا جاتا ہے۔ طبی سائنس کے مطابق یہ حرارت کی وہ مقدار ہے جو ایک کلو گرام پانی کے درجہ حرارت کو ایک سینٹی گریڈ تک بڑھا دیتی ہے۔

ہر انسانی جسم کو ان حراروں کی ضرورت مختلف ہوتی ہے اور اس کا انحصار کسی بھی انسان کی جسمانی مشقت پر ہوتا ہے۔ اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جو لوگ محنت مزدوری یا زیادہ جسمانی مشقت کرتے ہیں، ان کو زیادہ حراروں کی ضرورت پڑتی ہے اور دفاتر میں اور پُرسکون ماحول میں بیٹھ کر کام کرنے والوں کو ان کے مقابلے میں کم تعداد میں حرارے درکار ہوتے ہیں۔

جس طرح کیلوری کی ضروریات قوت کے استعمال کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح انسان کی عمر، قد و قامت اور اس کے مشقت کرنے کے لحاظ سے اسے حراروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہماری غذا اور خوراک کی بات کی جائے تو اس میں بھی حراروں کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ گھی تیل اور چکنائی میں تمام غذائوں سے زیادہ حرارے شامل ہوتے ہیں۔

جسم کے ایک کلو گرام وزن کے لیے ایک گھنٹے میں ایک کیلوری درکار ہوتی ہے۔ معمولات کی انجام دہی کے علاوہ کسی بھی قسم کا کام نہ کرنے والے فرد کو روزانہ 2500 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق اگر کوئی فرد اوسط متحرک ہو تو اسے 3000 جب کہ سخت مشقت اور محنت مزدوری کرنے والے کو 4500 یا اس سے زیادہ کیلوریز کی ضرورت ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں