The news is by your side.

Advertisement

انشورنس کی رقم کا لالچ، اپنا ہاتھ خود کٹوانے والی خاتون کو سزا ہوگئی

لبلیانہ: جمہوریہ سلووینیا کی عدالت نے انشورنس کی رقم حاصل کرنےکے لیے ہاتھ کٹوانے والی خاتون اور اُس کے دو ساتھیوں کو قید کی سزا سنا دی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملک اور ایلپس سے ملحقہ آزاد جمہوری ملک سلووینیا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہاتھ کاٹا تاکہ وہ انشورنس کی رقم حاصل کرسکے۔

بائیس سالہ خاتون کی شناخت جولیا آڈلیسچ کے نام سے ہوئی جس نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر بائیاں ہاتھ کو الیکٹریکل آرے کی مدد سے کاٹا اور پھر انشورنس کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ رقم ادا کریں۔

خاتون نے اپنا ہاتھ گزشتہ برس کاٹا تھا اور انہیں امید تھی کہ انشورنس کمپنیاں ایک ملین یورو ادا کردیں گی۔ جولیا نے جب انشورنس کمپنیوں میں درخواست دائر کی تو انہوں نے رقم کی ادائیگی سے قبل طریقۂ کار کے تحت واقعے کی تحقیقات کیں۔

ایک سال قبل جولیا نے پانچ مختلف انشورنس کمپنیوں کے ساتھ اپنی زندگی اور ممکنہ معذوری سے متعلق قانونی معاہدے بھی کر لیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اگر خاتون کے ہاتھ حادثے کی صورت میں کٹا ہوتا تو انہیں انشورنس کمپنیوں کی جانب سے رقم ادا کی جاتی۔

جولیا نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اُس نے اپنے دوست  اور اُس کے والد کے ساتھ مل کر یہ پروگرام بنایا تھا۔ لڑکے نے ہاتھ کاٹا اور پھر وہ اپنے والد کے ہمراہ اسپتال لے کر پہنچا تھا۔ اسپتال پہنچنے کے بعد لڑکی نے ڈاکٹرز کو بتایا تھا کہ درخت کی شاخیں کاٹنے کے دوران حادثہ پیش آیا اور بائیاں ہاتھ کٹ گیا۔

جب خاتون کو زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹرز نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے پولیس کو واقعے سے متعلق آگاہ کیا۔ ڈاکٹر کو اس بات پر شک ہوا کہ دونوں مرد خاتون کا کٹا ہوا ہاتھ گھر پر چھوڑ کر آئے تھے۔

پولیس نے واقعے کی تفتیش کا آغاز کیا تو معاملے مشکوک نکلا جس کے بعد تمام ملزمان سے ایک ایک کر کے بیانات لیے گئے۔ تفتیشی ماہرین نے لڑکے کا لیپ ٹاپ قبضے میں لیا تو اُس میں سے ایسے شواہد ملے جس سے واقعے کی کڑیاں کھلنے لگیں تھیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ’لڑکے نے انٹرنیٹ پر اس حوالے سے معلومات بھی حاصل کی تھیں کہ اگر کسی معذور انسان کو مصنوعی ہاتھ لگایا جائے تو وہ کیسے کام کرتا ہے‘۔

لڑکی، دوست اور اُس کے والد نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد انہیں عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے بھی پیش کیا گیا، ملزمان نے یہاں بھی اپنے جرم کا اعتراف کیا۔

عدالت نے تین ملزمان کو قید کی سزا سنادی ہے۔ ملزمہ نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا کہ ’یہ میں ہی جانتی ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہوا، میری زندگی برباد ہوگئی اور میں جوانی کی عمر میں اپاہج بھی ہوگئی‘۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں جولیا کو مالی دھوکا دہی کی مجرمانہ کوشش کی وجہ سے دو سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی جولیا کے دوست کو بھی تین سال اور اس لڑکے کے والد کو شریک مجرم ہونے کی وجہ سے ایک سال کی سزائے قید سنا دی گئی۔

خاتون جج ماریئتا دوورنِک نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ تینوں مجرمان کو سنائی گئی سزا بالکل مناسب ہے اور اس سے انہیں اور دوسروں کو بھی سبق سیکھنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں