نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت -
The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کررہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے وکیل استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر آج بھی جرح کررہے ہیں۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پرمعاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں ہیں، کچھ دیرمیں پہنچ جائیں گے جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث کی موجودگی میں ہی جرح کا آغازکیا جائے گا۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے سماعت کے دوران بتایا کہ کل کے بیان میں ٹائپنگ کی غلطی رہ گئی تھی درست کرانا چاہتے ہیں۔ خواجہ حارث نے ٹائپنگ کی غلطی میں تصحیح کے لیے درخواست دائرکر دی۔

عدالت میں گزشتہ روز سماعت کے دوران واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے تسلی کرلی قطر سے آنے والاخط حماد بن جاسم کا ہی ہے، 15 جون 2017 سے پہلے10 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے۔

استغاثہ کے گواہ کا کہنا تھا کہ حسن، حسین نواز، طارق شفیع ، سعید احمد اورعمر چیمہ شامل تھے، 10 گواہان میں سے کسی نے سوالنامہ پہلے بھیجنے کی درخواست نہیں کی۔

جے آئی ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ قطری کی جانب سے سوالنامہ پہلے بھیجنے کی فرمائش کی گئی، جے آئی ٹی کا فیصلہ تھا پیشگی سوالنامہ کسی کونہیں بھیجا جائے گا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کوخط لکھا تھا حماد بن جاسم بیان کے لیے راضی ہیں، واجد ضیاء نے کہا تھا کہ یہ بات درست ہے جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کوخط لکھا تھا۔

استغاثہ کے گواہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے جواب دیا جے آئی ٹی فیصلہ کرے بیان کہاں ریکارڈ کرنا ہے، حماد بن جاسم نے سوال نامہ پہلے فراہم کرنے کوکہا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں