The news is by your side.

Advertisement

یہ کہنا غلط ہے جفزا سے حاصل دستاویزات میں جعلسازی کی گئی‘ واجد ضیاء

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کیس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔

سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے وکیل خواجہ حارث جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پرمسلسل چوتھے روز جرح کی۔

واجد ضیاء نے کہا کہ حسن نوازسے فنانشل اسٹیٹمنٹ کے بارے میں پوچھا تھا، حسن نوازنے کہا فنانشل اسٹیٹمنٹ ان کےاکاؤنٹینٹ نے تیارکیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ حسن نوازنے کہا فنانشل اسٹیٹمنٹ پوری طرح نہیں پڑھی، کوئنٹ پنڈگٹن کی فنانشل اسٹیٹمنٹ کس نے تیارکی یہ نہیں پوچھا۔

انہوں نے کہا کہ حسن نوازکے کسی اکاؤنٹینٹ کوشامل تفتیش نہیں کیا، حسن نوازنے کہا کیپٹل ایف زیڈ ای کے لیے رقم کا انتظام انہوں نے کیا، حسن نوازکے مطابق یہی رقم بعد میں کوئنٹ پنڈگٹن کودی گئی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ جفزا دستاویزات کے مطابق نوازشریف کیپٹل ایف زیڈ ای کے ملازم تھے، نوازشریف کیپٹل ایف زیڈ ای میں بورڈ چیئرمین ملازمت کرتے تھے۔

واجد ضیاء نے کہا کہ گورنیکا سے حاصل سورس دستاویزات کی اصل کاپیاں پیش کیں، دستاویزات پر واضح لکھا ہے یہ سورس دستاویزات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ حارث بتائیں اس میں کہاں ٹمپرنگ ہے جس پر نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ آپ نے جو اصل کام کیا ہے وہ بھی بتائیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ ٹمپرنگ کا لفظ آپ کے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہے توضرورلکھیں، اصل دستاویزات کی جگہ فوٹوکاپیاں حقائق چھپانے کے لیے نہیں لگائیں۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے جفزا سے حاصل دستاویزات میں جعلسازی کی گئی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء کچھ ناراض نظرآرہے ہیں ، میں معذرت خواہ ہوں، ہمیشہ سخت سوال سے پہلے گواہ سے معذرت کرلیتا ہوں۔

واجد ضیاء نے کہا کہ نوازشریف 2006 سے 2014 کے دوران کیپٹل ایف زیڈ ای میں ملازم رہے، ایک دستاویزمیں نوازشریف کا عہدہ منیجرمارکیٹنگ درج ہے۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ دیگر2 ملازمت کے معاہدوں میں نوازشریف کا عہدہ چیئرمین بورڈ ہے۔

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی۔

عدالت میں گزشتہ روزسماعت کے دوران واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ٹیم نے تحریری طورپرکچھ نہیں لکھا تھا، خواجہ حارث نے سوال کیا تھا کہ جفزا اتھارٹی سے کون کون سے دستاویزات حاصل کیے؟۔

جے آئی ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ جودستاویزات جفزا سے حاصل کیے پہلے لکھوا چکا ہوں، گورنیکا انٹرنیشنل کی تصدیق اصل دستاویزات کی کاپیاں ہیں۔

استغاثہ کے گواہ کا کہنا تھا کہ جےآئی ٹی نے گورنیکا کے کسی ممبرکو شامل تفتیش نہیں کیا، کیپٹل ایف زیڈ ای ٹریڈنگ لائسنس کاپی کے لیے جفزا کو درخواست نہیں دی۔

چیف جسٹس کی نواز شریف کےخلاف ریفرنس نمٹانے کیلئےاحتساب عدالت کو 17 نومبر تک کی مہلت

یاد رہے کہ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف العزیز یہ اور فلیگ شپ ریفرنس نمٹانے کے لیےاحتساب عدالت کو سترہ نومبر تک کی مزید مہلت دی تھی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد کوئی توسیع نہیں دی جائے گی سترہ نومبر تک کیسوں کا فیصلہ نہ ہوا تو عدالت اتوار کو بھی لگے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں