The news is by your side.

بھارت میں بارش اور آسمانی بجلی نے 36افراد کی جان لے لی

اتر پردیش : بھارت میں مون سون کی بارشوں کے موقع پر آسمانی بجلی گرنا عام سی بات ہے، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2021 میں بھارت میں آسمانی بجلی گرنے سے تقریباً دو ہزار 869 افراد ہلاک ہوئے۔

بھارت سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں میں ہونے والی موسلادھار بارشوں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 36 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے 12 افراد آسمانی بجلی کی زد میں آکر لقمہ اجل بنے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے آنے والے دنوں میں مزید موسلادھار بارشوں کا انتباہ جاری کیا ہے۔

India: At least 36 killed in heavy rains, lightning in northern regions -  News | Khaleej Times

بھارتی میڈیا کے مطابق متعلقہ عہدیدار نے بتایا ہے کہ شمالی ریاست اتر پردیش میں موسلا دھار بارشوں کے دوران مکانات گرنے سے تقریباً 24 افراد ہلاک ہوگئے۔

15سالہ محمد عثمان جمعے کی شام پریاگ راج شہر میں اپنے دوست کی چھت پر موجود تھا جب آسمانی بجلی گر گئی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

اس سانحے میں اس کا دوست اذنان بھی زخمی ہوگیا جسے تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اب کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

Heavy rains, lightning kill at least 36 in northern India | International |  wrde.com

محمد عثمان کے والد محمد ایوب نے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے چھت پر قدم رکھا ان پر آسمانی بجلی گرگئی اور میرا بیٹا ہلاک ہو گیا۔

حکام نے بتایا کہ ریاست میں گزشتہ پانچ دنوں میں آسمانی بجلی گرنے سے 39 افراد ہلاک ہوئے ہیں, انڈیا میں مون سون جو جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔

ایک مقامی فلاحی تنظیم کے عہدیدار نے بتایا کہ جنگلات کی کٹائی، پانی کے ذخائر کی کمی اور آلودگی سب موسمیاتی تبدیلیوں کا بنیادی سبب ہیں جس سے آسمانی بجلی زیادہ شدت سے گرتی ہے۔

Heavy rains, lightning kill at least 36 in northern India

واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انڈیا میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ملک میں 2016 میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہزار 489 اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر دو ہزار869 ہوگئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں