The news is by your side.

Advertisement

97 سالہ خاتون کتب فروش ہیلگا وائیے سے ملیے

’’میری زندگی کتابوں کے ساتھ ہے۔ میری زندگی کا آخری باب بھی کتابوں کے ساتھ اور ان کی محبت میں ہی اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔‘‘

یہ الفاظ ہیں‌ جرمنی کی معمر ترین کتب فروش کے جن کا نام ہیلگا وائیے ہے۔ وہ 97 سال کی ہیں۔ وہ 1922 کو برلن سے لگ بھگ دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر زالس ویڈل نامی قصبے میں‌ پیدا ہوئیں۔ انھوں‌ نے جرمنی اور دنیا بھر میں‌ آنے والی کئی اہم سیاسی اور سماجی تبدیلیاں‌ اور انقلاب دیکھے۔ ہیلگا وائیے جرمنی کی معمر ترین کتب فروش ہیں۔

وہ اپنی آخری سانس بھی اپنی بک شاپ پر کتابوں‌ کے درمیان لینا چاہتی ہیں۔ انھوں‌ نے اس بک اسٹور پر اس وقت کام کرنا شروع کیا تھا جب دوسری عالمی جنگ کے دوران ہٹلر اقتدار میں تھا۔

جرمنی کی یہ خاتون گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کتابوں‌ کی خریدوفروخت کا کام کررہی ہیں اور خود بھی علم و ادب کی شیدا اور وسیع مطالعہ رکھتی ہیں۔ وہ اپنے بک اسٹور پر آنے والوں کو دہائیوں‌ پہلے کی مشہور کتب اور یادگار تصانیف کے بارے میں ہر سوال کا جواب دیتی ہیں اور انھیں‌ مصنف اور کتاب کے موضوع پر تمام ضروری معلومات آسانی سے دے سکتی ہیں۔

ہیلگا وایئے دو سال قبل تک ہفتے بھر اپنے بک اسٹور پر دیکھی جاتی تھیں۔ ان کی دکان پر آنے والے کتابوں کے چند رسیا ایسے بھی ہیں، جو بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ اس دکان پر آتے تھے اور آج وہ خود صاحبِ‌ اولاد ہوچکے ہیں‌ اور بعض‌ تو پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں‌ والے ہیں۔

ہیلگا وائیے نے دوسری عالمی جنگ کے دوران بک شاپ سے ناتا جوڑا تھا۔ اس وقت نازی اقتدار کا عروج تھا۔

دل چسپ اور قابلِ تحسین بات یہ بھی ہے کہ ہیلگا وائیے اپنے خاندان کی تیسری نسل سے تعلق رکھتی ہیں‌ جو یہ بک شاپ چلاتی آرہی ہے۔ دراصل یہ دکان 1840 سے ان کے خاندان کے لوگ چلا رہے ہیں اور ہیلگا وائیے اس عمر کو پہنچنے کے باوجود کاروباری سرگرمیاں‌ انجام دے رہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں