The news is by your side.

Advertisement

کہیں آپ ہیلی کاپٹر والدین تو نہیں؟

جب کوئی شخص ماں یا باپ کے عہدے پر فائز ہوتا ہے تو اس کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوجاتی ہے۔ ان پر اپنے بچے کی تربیت کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ان کی تربیت ہی معاشرے میں ایک اچھے یا برے شخص کا اضافہ کرے گی۔

تاہم بعض افراد اس ذمہ داری کا مطلب نہایت غلط انداز سے لیتے ہیں اور اپنے بچے کے لیے نہایت حساس ہوجاتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ صرف بچے کی نگرانی کرنا اور اس کے ہر کام میں مداخلت کرنا ہی ان کی ذمہ داری ہے۔

یہ انداز تربیت بچوں کی شخصیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور ان کی شخصیت میں منفی پہلو پیدا کرتا ہے۔

ماہرین نفسیات ایسے انداز تربیت کو ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ اور ایسے والدین کو ہیلی کاپٹر والدین کا نام دیتے ہیں کیونکہ یہ ہیلی کاپٹر کی طرح ہر وقت اپنے بچوں کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔

آئیں دیکھتے ہیں ہیلی کاپٹر والدین کی وہ کون سی عادات ہیں جس سے وہ لاعلمی میں اپنے بچوں کا نقصان کر رہے ہیں۔

ہیلی کاپٹر والدین بچوں کے چھوٹے چھوٹے کام خود کرتے ہیں۔

یہ بچوں کے ہوم ورک اور اسکول کے پروجیکٹس بھی خود کرتے ہیں۔

ایسے والدین اساتذہ کو مشورے دینے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ ان کے بچوں کو کیسے پڑھانا ہے۔

اگر بچے کی دوستوں کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو اس میں دخل اندازی کرتے ہیں۔

بچہ کوئی نیا کام یا تجربہ کرنا چاہے تو ناکامی کے ڈر سے اسے منع کر دیتے ہیں۔

اگر بچے کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو فوراً اس کی مدد کو پہنچتے ہیں یوں بچہ ہمیشہ والدین پر انحصار کرنے لگتا ہے۔

بچے کے کھیل سے لے کر تعلیمی سرگرمیوں تک دخل اندازی کرنا اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

یہ سلسلہ بڑے ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، ایسے والدین بچے کی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی دخل اندازی کرنے سے باز نہیں آتے اور اس کے پروفیشنل پروفائل اور انٹرویو کی تیاری اپنے ذمہ لے لیتے ہیں۔

ایسے والدین بچوں کی شادی شدہ زندگی میں بھی مداخلت کرتے ہیں یوں جوڑے کے آپس میں اور بعض اوقات بچوں اور والدین کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔

بچوں پر اس کا کیا نقصان ہوتا ہے؟

ہیلی کاپٹر والدین کے بچے سست ہوجاتے ہیں اور ان سے اپنا کوئی کام کرنا محال ہوجاتا ہے۔

بچے بڑے ہونے کے بعد بھی چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے سے کتراتے ہیں اور عدم اعتمادی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

بچہ ذاتی اور پیشہ ورانہ کاموں کو خود منظم نہیں کر پاتا کیونکہ انہیں ایسا کرنا سکھایا ہی نہیں جاتا۔

بچہ آرام دہ ماحول کا عادی ہوجاتا ہے۔

بچہ خود مختار نہیں ہو پاتا اور والدین پر انحصار کرتا ہے۔

بچہ کسی سے صحت مندانہ تعلقات بنا نہیں پاتا اور تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔

اپنی زندگی کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کے بعد بچہ (جو اب بڑا ہوچکا ہوتا ہے) مایوسی، پریشانی اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے خصوصاً اگر وہ ایسے موڑ پر ہو جب والدین اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں۔

یاد رکھیں، والدین کی ذمہ داری صرف بچے کو مشکلات سے بچانا نہیں ہے۔ مشکلات ہر شخص کی زندگی میں آتی ہیں چاہے ان سے بچنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے۔

اہم یہ ہے کہ مشکل وقت کو گزارا جائے اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جائے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ بچے کو بغیر کسی سہارے کے اپنی سمجھ بوجھ اور حالات کے مطابق مشکلات کا سامنا کرنا سکھائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں